خارجی اور افراطی سوچ اور جہادی تحریکیں

#image_title

خارجی اور افراطی سوچ اور جہادی تحریکیں۔

 

مولوی احمد جان

 

الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وأصحابه ومن والاه، أما بعد، فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم ﴿وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ﴾ (البقرة: 143) ﴿يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِىْ دِيْنِكُمْ﴾ (النساء: 171)

 

وقال النبي صلى الله عليه وسلم: «إياكم والغلو، فإنما أهلك الذين من قبلكم غلوهم في دينهم».

 

 

اہل السنۃ والجماعۃ طائفہ منصورہ ہے، اور ان کی ایک بے مثال خصوصیت اعتدال ہے، یعنی نہ تو تفریط اور نہ ہی انتہا پسندی۔ اس امت میں جس کسی نے بھی افراط یا تفریط کا راستہ اختیار کیا وہ صراط مستقیم سے ہٹ گیا اور بالآخر جمھور اہل السنۃ کا منہج اور طریقہ ان سے گم ہوا، اور وہ ” من شذ شُذ”  کی مصداق بن گئے۔

خاص طور پر دین میں غیر ضروری تشدد اور غلو نے پچھلے امتوں کو بھی تباہ کر دیا تھا اور اس قوم میں بھی پہلی خطرناک فتنہ تشدد اور غلو کے ذریعے آئی اور قوم کو ایک بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑا جو کہ خوارج کا فتنہ تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کلما طلع قرن قطع۔

ترجمہ: جب بھی(یہ فتنہ) ظاہر ہو گا تو کاٹ دیا جائے گا!

 

لہٰذا طائفہ منصورہ اس لئے اہل السنۃ والجماعۃ ہے کیونکہ انہوں نے پوری تاریخ میں اہل سنت والجماعت کے منہج سے انحراف نہیں کیا ہے، خارجی گروپوں نے کبھی اتنی کامیابی حاصل نہیں کی کہ امت کی قیادت کرسکے۔

کیونکہ خوارج بہت ہی بے رحم لوگ ہیں اور یہ مہربان امت ہے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس امت کی قیادت ایسے ظالموں کو کبھی نہیں دیتا، تاریخ میں وقتاً فوقتاً خارجی گروہ ظاہر ہوتے رہے ہیں، لیکن وہ ختم ہو چکے ہیں، اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر کام میں نرمی سے کام لیتے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کو جمرات کو مارنے کے وقت حکم دیا:

ألقط لي مثل حصى الخزف، وإياكم والغلو، فإنما أهلك الذين من قبلكم غلوهم في دينهم.

ترجمہ: جمرات کو مارنے کیلئے مجھے چھوٹے چھوٹے کنکریاں دیدے، اور دین میں غیر ضروری سختی اور تشدد سے بچیں؛ کیونکہ تم سے پہلے لوگ نے دین میں غلو کرنے کیوجہ سے تباہ و برباد ہوگئے تھے۔

اسی وجہ سے (إياکم والغلو) کے مصنف (ص:4) میں فرماتے ہیں: لا یغلو عبد إلا یخرج من الھدی الصالح فی آخر الأمر۔

 

ترجمہ: جو غلو سے کام لیتا ہے وہ آخرکار دین میں سیدھی راہ اور منہج سے ہٹ جاتا ہے۔

اور صفحہ 8 میں فرماتے ہیں:ولا تجد فرفة بين المسلمين إلا بسبب الغلو.

مسلمانوں میں تفرقہ، فرقہ واریت اور اختلاف فقط غلو کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:

الغلو مجاوزة الحد بأن يزاد في الشيء في حمده او ذمّه على ما يستحق ونحو ذلك.

ترجمہ: غلو کسی چیز کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے کو کہتے ہیں، یعنی تعریف یا مذمت میں جتنا حق ہو، آدمی اسے اس سے تجاوز کرلیں

اقتضاء الصراط المستقیم، جلد 1، صفحہ 289:۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”

الغلو بأنه المبالغة في الشيء والتشدد فيه بتجاوز الحد”.

ترجمہ: غلو اس کو کہتے ہیں: کہ کوئی شخص کسی چیز کے بارے میں اتنی سختی اور مبالغہ کر ے کہ وہ صحیح حد سے بڑھ جائے۔

فتح الباری، جلد: 13، صفحہ: 278:

نادرہ النعیم کے صاحب نے پھر غلو کا مفہوم اس طرح بیان کیا ہے:

تجاوز الحد الشرعي في أمر من أمور الدين

ترجمہ: دینی کام میں شرعی حد سے تجاوز کرنا۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

إياكم والتبدع، إياكم والتنطع، وإياكم والتعمق و علیکم بالدین العتیق

ترجمہ: اپنے آپ کو بدعت سے بچاؤ اور دین میں سختی اور تکلف سے بچو اور اپنے پرانے دین کو مضبوطی سے پکڑو۔

اعلام الموقعین، جلد: 4، صفحہ: 105:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دین مضبوط ہے، اگر تم اسمیں رسوخ چاہتے ہو تو نرمی سے حاصل کرو ، کیونکہ وہ مسافر جو مسلسل سفر کرتا ہے اور اعتدال سے کام نہیں لیتا وہ نہ خود منزل تک پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی دوسروں کو پہنچا سکتا ہے۔

لا ارضا قطع ولا ظھرا بقی…!

مثال اس شخص کی ہے جو بہت زیادہ سختی کرتا ہے، یعنی وہ خود بھی اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا کیونکہ وہ اس کی استطاعت سے باہر ہے، اور نہ سواری اس کو منزل تک پہنچ سکتا ہے کیونکہ اس نے سختی کی وجہ سے اسے ضائع کر دیا ہے، لہٰذا سختی کرنے والا خود بھی منزل تک نہیں پہنچ سکتا، اور سختی کی وجہ سے منزل تک پہنچنے کے اسباب بھی ضائع کردیتا ہے

ابن عثیمین رحمہ اللہ نے اس مثال کو یوں بیان کیا ہے:

والمنبت الذي يمشي ليلًا ونهارًا دائمًا، هذا لا أرضًا قطع ولا ظهرًا بقي، بل يتعب ظهره وبالتالي يعجز ويتعب ويحسر ويقعد.(شرح ریاض الصالحین)

ترجمہ: منبت اس شخص کو کہتے ہیں؛ جو مسلسل دن رات چلتا رہے (یعنی وہ راستے میں استراحت اور اعتدال نہیں کرتا) تو وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ ہی اس کی سواری برقرار رہ سکتی ہے، بلکہ مسلسل چلنے کیوجہ سے سواری بھی کام کی نہیں رہتی، نہ ہی چلنے کی قابل رہ جاتی ہے ، بالآخر تھک جایے گا اور چل کر بیٹھ جائے گا مزید یہ کہ اس کی منزل بھی اس سے رہ جائے گی۔

 

جیسا کہ عصری جہاد میں بعض محاذوں پر ہوا؛ کہ بعض افراطی سوچ اور شدت پسند خیالات کے حامل افراد کی طرف سے انسانی زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ لوگوں کے ساتھ انتہائی پرتشدد سلوک روا رکھا گیا تھا جس کی وجہ سے ان کے ساتھی بھی طرح طرح کی جنگوں میں ملوث ہوگئے جس کے نتیجے میں وہ اپنی بہت سی جانیں گنوا بیٹھے۔ اب وہ اپنے مقصد تک نہیں پہنچ سکتے، اور انہوں نے ان تمام ممکنہ ذرائع، وسائل اور ساتھیوں کو تشدد کی وجہ سے ضائع کردیا، کیونکہ ان کے ساتھی مزید اس فتنہ کو برداشت نہیں کرسکتے، کیونکہ اعتدال اور دشمنوں کو کم کرنا (تقلیل الأعداء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و کردار کا ایک اہم پہلو اور حصہ ہے۔

 

اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: "هلك المتنطعون، قالها ثلاثًا. (مسلم، كتاب العلم

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تشریح میں کہا ہے: تکلف اور غلو کرنے والے ہلاک ہوگئے، جو اپنے اق

وال و افعال میں حد سے تجاوز کرتے ہیں ۔

 

باقي پھر ۔۔۔۔۔