حکومت پاکستان داعش کے نقش قدم پر چل رہی ہے

#image_title

حکومت پاکستان داعش کے نقش قدم پر چل رہی ہے

 

شہاب الافغانی

 

حکومت پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے افغان مہاجرین کو گرفتار کرنے اور انہیں تنگ کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔

سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ افغان مہاجرین کے بچوں، عورتوں، مریضوں اور سفید ریش بزرگوں کو پاکستانی حکومت نے گرفتار کر لیا ہے، اور وہ انسانی و اسلامی حقوق سے محروم کیے جانے کے بعد جیلوں میں راتیں گزار رہے ہیں۔

پاکستانی حکام کی یہ کوششیں اس وقت شروع ہوئیں جب پاکستانی سیکورٹی ادارے اپنی عوام کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو گئے، اور جھوٹے الزامات لگا کر افغان مہاجرین کو گرفتار کرنے اور ان پر تشدد کرنے کا یہ بیہودہ عمل شروع کر دیا۔

حکومت پاکستان کی یہ کارروائی بالکل داعش کے اُس کردار کی یاد تازہ کر رہی ہے جب داعش نے صوبہ ننگرہار کے لوگوں کو جبراً علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔

داعشی خوارج ننگرہار کے اضلاع شیرزاد، خوگیانو اور شنواری کے باشندوں کو دھمکیاں دیتے ہوئے ان سے کہتے تھے ” اگر تمہیں موت پسند ہے تو اپنے گھروں میں رہو۔”

اب اس کھیل کے کھلاڑی پاکستانی حکومتی ادارے ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ دونوں ظالم فریقین کے جھنڈے مختلف ہیں لیکن کردار دونوں کا ایک ہے۔

اگر ہم دیکھیں تو مسلمانوں کو قتل، اغوا اور ہجرت پر مجبور کرنا داعش کا طریقۂ کار تھا، بدقسمتی سے اب پاکستانی حکام خطے میں یہ طرز عمل اختیار کر رہے ہیں۔

پاکستان میں عدم تحفظ اور بدامنی کی وجہ افغان مہاجرین نہیں بلکہ کرپشن اور لوٹ کھسوٹ میں ملوث وہ حکومتی ادارے ہیں جنہوں نے پاکستان کی معاشی، سیاسی اور سیکورٹی صورتحال کشیدہ کر رکھی ہے، یہاں تک کہ بڑے بڑے مفسدین و مجرمین کے مقدمات کو ان مفسدین کی طبعی موت کے بعد عدالتوں نے خارج اور فائلوں کو بند کر دیا ہے۔