جھوٹے خلافت کے غیر مسلم کمانڈرز

#image_title

جھوٹے خلافت کے غیر مسلم کمانڈرز

اویس احمد

 

دوسرا حصہ:

اس بار ہم ایک اور (FBI) کے جاسوس اور داعش کے ایک اور اہم غیر مسلم کمانڈر بجرو اکانویج کی تعارف کروائیں گے

(ترخان بطیر شویلی) جو عمر الشیشانی کے نام سے مشہور تھا، ایک بڑا کمانڈر تھا، حتیٰ کہ امریکہ نے اس کے سر پر انعامات مقرر کر رکھے تھے۔

آپ نے عمر الشیشانی کو المرصاد کے ایک مضمون میں پڑھا ہوگا ( الشیشانی داعش کا مشہور کمانڈر امریکیوں کا طالب علم تھا)۔

عمر الشیشانی کا ایک نائب تھا اور وہ (باجرو اکانوویچ) تھا۔

اکانوویچ رامو پزارا کے قریبی دوست ہیں، اکانوویچ بوسنیائی نژاد امریکی شہری بھی ہیں۔

پزارا کی طرح اس کا بھی بوسنیا میں مسلمانوں کے خلاف جنگ کا برا ریکارڈ ہے۔

2013 میں، اکانوویچ امریکہ میں ایک چھوٹے بوسنیائی گروپ کا رہنما تھا، جس نے عراق میں پزارا کو نقد رقم بھیجی اور عراق میں پزارا کی قیادت میں لڑنے کے لیے بلقان اور قفقاز کے لوگوں کو بھرتی کیا۔ یہ گروپ سوشل میڈیا پر بہت متحرک تھا اور اس کے ذریعے کام کرتا تھا۔

عجیب بات یہ ہے کہ علاقے کے حالات سے ہم آہنگ ہونے کے لیے اکانوویچ نے پزارا کی طرح اپنا نام نہیں بدلا۔

The designation claims that Ikanovic held various

leadership positions in IS, including being a member of

the organization’s judicial branch for religious-military

affairs, the Shura Council, and the head of the larg

est IS training camp in northern Syria at the popular

border-crossing point of Azaz.48 In Azaz, Ikanovic “ap

propriated” a mansion from a former Syrian regime

official that was used to transit travelers from the Balkans

and elsewhere into Syria.

اکانوویچ نے شامی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدے دار کا گھر اپنے لیے مخصوص کر رکھا تھا اور وہاں سے بلقان کے ممالک سے آنے والے لوگوں کو منظم کر کے داعش سے لڑنے کے لیے بھیجتے تھے۔

اکانوویچ داعشی خوارج کی قضاء (فوجی عدالت) کے سربراہ تھے، بعد میں شام میں عزاز کی گرینڈ آرمی کے سربراہ اور آخر میں داعش کی مرکزی کونسل کے رکن تھے۔

عجیب ہے؟ یہ غیر مسلم کمانڈرز دنیا میں اسلامی خلافت چاہتے ہیں۔