جبہۂ منافقت کے سربراہ کی حقیقت – داعش سے اسرائیل تک

#image_title

جبہۂ منافقت کے سربراہ کی حقیقت – داعش سے اسرائیل تک
فائز افغان

جبہہٗ منافقت کے سربراہ احمد مسعود نے امارت اسلامیہ افغانستان کے ساتھ جنگ میں اسرائیل سے مدد کی درخواست کی ہے۔
احمد مسعود کا بیان ہے: ’’ہمیں اسرائیل سمیت کسی بھی فریق کی مدد کی ضرورت ہے جو ہماری حمایت کرتا ہے۔‘‘
جبہۂ مقاومت کے سربراہ نے منگل کے روز یروشلم پوسٹ اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ محاذ طالبان کے خلاف مزاحمت کے ایک اہم گروپ کے طور پر علاقائی امن منصوبے میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے، یعنی طالبان کے خلاف یہودی ریاست کی مدد و حمایت کو قبول کرتا ہے۔
تاریخی شواہد کے مطابق نہ صرف یہ کہ احمد شاہ مسعود اور اس کے خاندان کے قومی تشخص اور افغانستان کی مظلوم قوم کے لیے گراں قدر خدمات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، بلکہ ہر دن، مہینہ اور سال جو گزرتا جا رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ ان کی ملک دشمن حرکتوں کے بارے میں نئی نئی دستاویزات اور شواہد سامنے آتے جا رہے ہیں۔ قابض سوویت یونین کے ساتھ میدانِ جنگ میں پروٹوکول، خانہ جنگی کے دوران کابل میں انسانیت سوز جرائم، افغانستان پر قبضے میں مغربی حملہ آوروں کی مدد، ملک کو تقسیم و تحلیل کرنے کی تباہ کن کوششیں، افغان عوام کی مخالفت میں انسانیت کے دشمن (اسرائیل) کے سامنے پاتھ پھیلانا، اس خاندان کا ملک دشمن چہرہ بے نقاب کر دیتا ہے۔
یہ اطلاعات بھی ہیں کہ جبہۂ منافقت کی افغانستان میں داعشی خوارج کے ساتھ مفاہمت ہوگئی ہے کہ اخراجات ہم (جبہۂ مقاومت) ادا کریں گے، جبکہ انسانی وسائل تم (داعش) فراہم کرو گے۔
اس کے علاوہ ابو حنظلہ ظریف جوانمرد نامی خراسانی خوارج کا ایک حامی ہے جو خود کوداعی کہتا ہے۔ اس کی ایک تقریر آپ نے سنی ہو گی کہ وہ جبہۂ مقاومت کے نام سے باغیوں کی کھل کر حمایت کرتا ہے اور امارت اسلامیہ کے خلاف اس جنگجو گروہ کی جنگ کی تعریف کرتا ہے۔
اپنی تقریر میں جوانمرد باغی گروہ کو ’’قربان جاؤں‘‘ کہتا ہے، ان کو شاباشی دیتا ہے اور انہیں اپنا بھائی کہتا ہے۔ ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ اگرچہ ان باغیوں کی جنگ ’غیر اللہ‘ اور فرانس کے لیے ہے لیکن پھر بھی میں ان کے لیے نماز میں دعا مانگتا ہوں۔
ہم نام نہاد جبہۂ مقاومت کے سربراہ کی ملک دشمن کوششوں سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی قیمت پر افغانستان میں امن و استحکام کو روکنا چاہتا ہے۔ لیکن ہم اس نادان سربراہ اور اس کے اندھے حامیوں سے کہتے ہیں کہ افغانستان میں تمہاری جیت خواب، فریب اور دیوانگی کے سوا کچھ نہیں۔

بھیڑیے کا بیٹا بھیڑیا ہوتا ہے آخرِ کار
گرچہ گزارے انسانوں کے ساتھ لیل و نہار