جاسوسوں کی ممکنہ موجودگی کے باعث عراق میں داعش کے ارکان کی مسلسل گرفتاریاں

عبد اللہ نظام

#image_title

عراقی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ داعش کے ایک رکن کو جو صوبہ نینویٰ میں سکیورٹی فورسز کے ترصد کا انچارج  تھا، گزشتہ اتوار کو دار الحکومت بغداد سے گرفتار کر لیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق اس شخص کو بغداد شہر کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا اور اس نے داعش کے رکن ہونے کا اعتراف کیا۔

اس سے ایک روز قبل ہفتہ کے روز سلیمانیہ شہر سے داعش کے دو ارکان کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان کی معلومات پر کرکوک صوبے میں داعشی خوارج کے مزید دو ارکان کو زندہ پکڑ لیا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے عراق کے صوبہ نینویٰ میں داعش کے پانچ جنگجوؤں کو زندہ پکڑ لیا گیا  تھا۔

عراق میں خوارج کی پے در پے گرفتاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاسوس شام کے ساتھ ساتھ اس ملک میں بھی داعش کی صفوں میں گھس چکے ہیں۔ شام اور عراق وہ ممالک ہیں جہاں داعش کی قیادت اور مرکز موجود ہے۔ لیکن کچھ عرصے سے ان دونوں مقامات، خاص طور پر شام، میں  داعش کی قائدین کو یکے بعد دیگرے شکار کیا جا رہا ہے۔

ان سلسلہ وار واقعات کو دیکھ کر بہت سے مبصرین اور خود داعش کے بعض ذمہ داران کا خیال ہے کہ خوارج کی صفوں میں سے کچھ لوگ اپنے ساتھیوں کی معلومات بیرون ممالک کو فراہم کر رہے ہیں۔ اس نظریے کو تقویت دینے والے عوامل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ داعش کا سابق سربراہ اور نام نہاد خلیفہ ابو الحسین الہاشمی القریشی  اپنی شناخت کو خفیہ رکھنے کے لیے کیے گئے تمام اقدامات کے باوجود ایک خصوصی آپریشن میں مارا گیا۔ اس کی موت کو دیکھتے ہوئے داعش کے بعض سابق ارکان بھی کہتے ہیں کہ یہ کام صفوں میں موجود جاسوسوں کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھا۔