تکفیری فکر کے حامل ایک خارجی کے امیرِ تحریک طالبان پاکستان سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات

پاکستان میں جمہوریت کے راستے اسلامی نظام لانے اور جدوجہد کرنے والے علماء کرام کے قتل کے بارے میں تحریک طالبان پاکستان کا مؤقف!؟

#image_title

تکفیری فکر کے حامل ایک خارجی کے امیرِ تحریک طالبان پاکستان سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات

(تیسراں حصہ)

پاکستان میں جمہوریت کے راستے اسلامی نظام لانے اور جدوجہد کرنے والے علماء کرام کے قتل کے بارے میں تحریک طالبان پاکستان کا مؤقف!؟

 

عزیز الدین مصنف

 

دوسرا سوال:

اے امیر! جمہوری اور درباری علماء کے بارے میں ہماری تحریک کا سابقہ عقیدہ اور رسمی موقف یہ تھا کہ وہ مرتد ہیں اور یہاں تک کہ ہم نے بہت سے ایسے درباریوں کو قتل بھی کیا ہے، اس کے برعکس آج ہم ان کی تعزیتیں کرتے ہیں، انہیں شہید اور انبیاء کے وارث کہتے ہیں، اور رسمی طور پر ان کے مارے جانے پر افسوس ظاہر کرتے ہیں، اور ان کے قاتلوں کی مذمت کرتے ہیں، حالانکہ یہ بھی وہی علماء، وہی درباری اور جمہوریت کو اسلام کہنے والے لیڈر ہیں جو کہ پہلے تھے، تو ہم اس وقت باطل پر تھے یا آج؟

 

جواب:

تحریک نے کبھی بھی ان لوگوں کی تکفیر نہیں کی جو کہ جمہوریت کے ذریعے اسلامی نظام کے لیے جدو جہد کرتے ہیں، بلکہ تحریک نے کبھی عام جمہوری پارٹی والوں کی بھی تکفیر نہیں کی، اور نہ ہی یہ کبھی تحریک کا رسمی عقیدہ اور موقف رہا ہے، بلکہ جب تحریک کا عمومی لائحہ طالب حق مولانا فضل اللہ شہید رحمہ اللہ کے دور میں ترتیب اور منظور ہوا تو اس میں صراحت کے ساتھ یہ شق لکھی گئی کہ تحریک کے پلیٹ فارم سے مذہبی سیاسی جماعتوں پر تنقید نہیں کی جائے گی۔

یہ لائحہ مولانا فضل اللہ شہید رحمہ اللہ کے دور میں رہبری شوری نے پاس اور منظور کیا تھا، جس پر بنیادی کام شیخ خالد حقانی شہید رحمہ اللہ، شیخ گل محمد صاحب اور مولانا قاری محمد شعیب صاحب نے کیا تھا، اور مولانا فضل اللہ شہید اور شیخ خالد شہید رحمہما اللہ کی حیات میں ہی یہ فیصلہ بھی ہوا تھا اور جس کا بعض حصہ مختلف لائحوں کا جز بھی بنا ہے، کہ تحریک طالبان پاکستان کے نزدیک جمہوریت کفر ہے، البتہ جمہوریت میں شامل لوگوں کی ہم تکفیر نہیں کرتے، اور جو علماء کرام اور سیاسی مذہبی جماعتیں، جو جمہوریت کے ذریعے اسلام لانا چاہتے ہیں، تحریک طالبان پاکستان ان کی تکفیر، تضلیل اور تفسیق نہیں کرتی۔

بہر حال یہ بات کہ تحریک جمہوری علماء کو قتل کرتی تھی تو یہ بات اس حد تک تو یقینی ہے کہ مجاہدین کے لبادے میں بعض تکفیری اور خارجی عناصر، یا ایجنسیوں کے ایجنٹ، علماء کرام کو شہید کرتے تھے، البتہ اس کی نسبت تحریک کی طرف کرنا جھوٹ اور ظلم ہے یا بے خبری ہے۔

شیخ حسن جان شہید رحمہ اللہ تحریک کے بننے سے پہلے شہید کردئیے گئے تھے، اور اب تک یقینی معلومات نہیں ہیں کہ اس منحوس کام اور کبیرہ گناہ کا مرتکب کون بدبخت تھا۔ البتہ ایک دفعہ میڈیا پر یہ خبر چل رہی تھی کہ شیخ حسن جان رحمہ اللہ کو چارسدہ کے مشہور ڈاکو نے شہید کیا ہے، اور اس منحوس کام کے لیے اس نے شیرپاؤ سے پیسے لیئے تھے (واللہ اعلم)۔

مولانا محسن شاہ صاحب رحمہ اللہ مروت والے، فیضو مدرسے کے سرپرست کو تہجد پڑھتے ہوئے کسی بدبخت تکفیری نے شہید کیا تھا۔ اسی طرح مجاھد عالم دین مولانا افتخار رحمہ اللہ کو میران شاہ میں ایک بدبخت تکفیری نے ایسے حال میں شہید کیا تھا کہ وہ مشکوٰۃ شریف کا مطالعہ کر رہے تھے۔

ایسے علماء کے قاتلوں کو امیر حکیم اللہ شہید رحمہ اللہ کے دور میں تحریک کے غازیوں نے ٹھکانے لگا کر انہیں ان کے انجام تک پہنچا دیا تھا، اور کچھ کو بعد میں ٹھکانے لگادیا گیا۔

 

جاری ہے…

ان شاء اللہ تعالیٰ

#مصنف