تکفیری فکر کے حامل ایک خارجی کے امیرِ تحریک طالبان پاکستان سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات (دوسراں حصہ)

پاکستان؛ دار الکفر یا دار الاسلام!؟

#image_title

تکفیری فکر کے حامل ایک خارجی کے امیرِ تحریک طالبان پاکستان سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات

(دوسراں حصہ)

پاکستان؛ دار الکفر یا دار الاسلام!؟

 

عزیز الدین مصنف

 

پہلا سوال: اے امیر:

تحریک کا سابقہ عقیدہ اور رسمی موقف یہ تھا کہ پاکستان دار الکفر ہے، لیکن موجودہ امیر صاحب کا رسمی بیان یہ ہے کہ نہیں ، پاکستان دارالکفر نہیں ہے، حالانکہ کہ اب بھی وہی پاکستان ہے، بلکہ اب تو حالات سابق سے بھی بدتر ہیں ، تو کیا آج ہم باطل پر ہیں یا کل باطل پر تھے؟

 

جواب:

پہلی بات تو یہ ہے کہ تحریک کا رسمی عقیدہ اور موقف اس حوالے سے کبھی بھی نہیں رہا کہ پاکستان دارالکفر ہے، کیوں کہ تحریک کا رسمی مؤقف وہ ہوتا ہے جو یا تو تحریک کی رہبری شوریٰ (سابقہ عالی شوریٰ) نے مشاورت کے بعد متفقہ طور پر طے کیا ہو ۔ یا تحریک کے علمی اور تحقیقی ادارے (دارالافتاء و التحقیق ) نے اسے تحقیق کے بعد پاس کیا ہو اور پھر اس کا تحریک کے موقف کے طور پر اعلان ہوا ہو، یا تحریک کے رسمی لوائح میں سے کسی لائحہ میں موجود ہو۔

البتہ تحریک کے موجودہ امیر کی کتاب "مجموعۃ المسائل” میں دارالکفر اور دارالاسلام کا موضوع علمی انداز میں اسی طرح ذکر کیا گیا ہے جس طرح فقہاء کرام اس موضوع کو ذکر کرتے ہیں، اور اس میں وہی موقف اختیار کیا گیا ہے جو کہ جمہور علماء دیوبند کا مؤقف ہے، اور یہ کتاب ابھی نہیں لکھی گئی بلکہ محترم مفتی صاحب دامت برکاتہم العالیہ اس وقت تحریک کے امیر تو کیا نائب امیر بھی نہیں تھے بلکہ ایک عام مجاہد تھے، تو اس وقت آپ نے یہ کتاب لکھی تھی، اور تحریک سے مربوط وزیرستان کے بعض جید علماء کرام نے اس پر تقاریظ بھی لکھی تھیں، پھر جب آپ تحریک کے امیر مقرر کیے گئے اور کتاب بعض دیگر اضافات کے ساتھ شائع ہوئی تو پھر اس پر تحریک کے دیگر جید مشائخ اور علماء کرام جو کہ تحریک کی رہبری شوریٰ کے اراکین بھی ہیں، نے بھی تقاریظ لکھیں۔

اصل بات یہ ہے کہ دار الکفر اور دار الاسلام کا موضوع سلف اور مذاہب اربعہ میں اختلافی تھا، اسی طرح امام ابوحنیفہ اور صاحبین رحمہم اللہ میں بھی اختلافی تھا، علماء دیوبند کے مابین بھی اختلافی ہے، جمہور علماء دیوبند رحمہم اللہ کا موقف غالباََ یہ ہے کہ جب کوئی ملک مسلمانوں کا ہو اور اس کا حکمران وہاں اسلامی نظام نافذ کرنے کی طاقت رکھتا ہو لیکن اس کے باوجود بھی عملاً اسلامی نظام نافذ نہ کرے تو بھی وہ ملک دارالکفر نہ ہوگا، البتہ اس کی حکومت اس وقت تک اسلامی نہیں ہوسکتی جب تک وہ اسلامی نظام نافذ نہ کرے۔

لیکن پھر محدث العصر مولانا محمد یوسف بنوری رحمه الله کا وہی موقف ہے جو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے صاحبین کا ہے، صاحبین رحمہما اللہ کا موقف یہ ہے کہ جس ملک میں اسلامی نظام عملا نافذ ہو تو وہ ملک دارالاسلام ہے، اور اگر اس میں کفری قانون نافذ ہو تو وہ دارالحرب یا دارالکفر ہے۔ لہذا صاحبین کے نزدیک پاکستان دارالکفر ہے اور دیگر سلف اور جمہور علماء دیوبند رحمہم اللہ کے نزدیک مسلمانوں کا کوئی ملک جیسے پاکستان کو دارالکفر ثابت کرنا بہت مشکل ہے۔ البتہ مسلمانوں کی حکومت کے خلاف جہاد کرنا دارالکفر اور دارالاسلام پر موقوف نہیں ہے، اس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں سے ایک اہم وجہ اسلامی نظام کا نہ ہونا ہے۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کے خلاف قیام اور خروج کیا تو اسے تمام اہل سنت جہاد کہتے ہیں، اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو برحق شہید کہتے ہیں، لیکن اس علاقے کو کسی نے بھی دارالکفر نہیں کہا۔

محمد النفس الزکیه نے جب خلیفہ وقت (منصور) کے خلاف خروج کیا تو امام صاحب رحمہ اللہ نے فتویٰ دیتے ہوئے فرمایا: "خروجه يضاهي خروج بدر” یعنی ان کا خلیفہ وقت کے خلاف خروج بدر کے دن نکلنے کی طرح ہے۔

اسی طرح جب کمیونسٹوں کے خلاف جب افغانیوں نے جہاد شروع کیا تو اس کے بارے میں شیخ عبد اللہ عزام شہید رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ افغانستان کے اکثر علماء کرام افغانستان کو دارالحرب نہیں کہتے تھے، یا اس معاصر جہاد میں بھی امارت اسلامیہ افغانستان کو دارالحرب نہیں کہتی تھی۔

پاکستان کے دارالکفر ہونے کے حوالے سے تحریک کا کبھی بھی کوئی رسمی موقف نہیں آیا، البتہ سلف کے مابین اور علماء دیوبند کے مابین اختلاف کی وجہ سے تحریک میں بھی مختلف آراء ہوسکتی ہیں، البتہ اس میں سب کا اتفاق ہے کہ اس میں اسلامی نظام نہیں ہے، اسی طرح يہ کفر کا صف اول کا اتحادی ہے اور اسی بنیاد پر قبائل پر اس نے حملہ کیا ہے، اسی وجہ سے جہادِ پاکستان مشروع جہاد ہے، اور اگر ہم اس جہاد کو دار (اسلام یا حرب) پر معلق کریں گے تو یہ موضوع اختلافی ہوجائے گا، حالاں کہ جہادِ پاکستان اتفاقی ہے۔

 

جاری ہے…

ان شاء اللہ تعالیٰ