تکفیری فکر کے حامل ایک خارجی کے امیرِ تحریک طالبان پاکستان سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات

#image_title

تکفیری فکر کے حامل ایک خارجی کے امیرِ تحریک طالبان پاکستان سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات

(پہلا حصہ)

 

بقلم: عزیز الدین مصنف

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

کل ایک ساتھی نے ایک تحریر بھیجی جو کہ ایک تکفیری فکر کے حامل خارجی نے لکھی تھی، اور اس نے خود کو خلافِ حقیقت اہل سنت والجماعت کی عظیم جہادی تحریک "تحریک طالبان پاکستان” کی طرف منسوب کیا تھا، جس میں اس نے تحریکِ طالبان کی قیادت کی طرف انتہائی گستاخانہ انداز میں کچھ سوالات متوجہ کیے ہیں، جیسا کہ خوارج کا عام طریقہ ہے، اور یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ گویا تحریک کی موجودہ قیادت نے اپنا سابقہ مؤقف اور طریقہ بدل دیا ہے، اور یہ خارجی بے مذہب اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ کوئی سنی مجاہد اسکے اس جھوٹے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اس شکست خوردہ خارجی کی جماعت سے منسلک ہوجائے گا۔ یہ اس خارجی کی حماقت ہے اور خارجی تو ویسے بھی احمق ہوتے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اُنہیں "سفهاء الاحلام” (کم عقل اور بے وقوف) فرمایا ہے، اسی طرح آپ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ ’’شر خلق تحت اديم السماء‘‘ (یعنی یہ خوارج آسمان کے نیچے سب سے بد ترین مخلوق ہیں)، کیوں کہ یہ بدبخت امت میں بہترین لوگوں کو شہید کرتے ہیں، جیسا کہ ایک روایت میں آتا ہے کہ "يقتلون خيار المسلمين” (یعنی وہ مسلمانوں میں سے بہترین لوگوں کو شہید کرتے ہیں)۔

آپ سب دیکھ سکتے ہیں کہ علماء اور مجاھدین سب سے بہترین لوگ ہوتے ہیں، لیکن یہ لوگ اُنہیں صرف اس لیے شہید کرتے ہیں کیوں کہ وہ ان خارجیوں اور تکفیریوں کے عقائد سے اختلاف رکھتے ہیں، وہ ان کی بدعی خلافت کو شرعی اور سنی خلافت نہیں کہتے، ان کے مبتدع خارجی امیر کو امیر المؤمنین نہیں کہتے، اور جو زمین ان کے زیرِ اثر نہیں ہوتی تو اسے ہر صورت میں دار الکفر نہیں کہتے۔

علامہ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تاریخ میں جب بھی خوارج ظاہر ہوئے ہیں تو تین باتیں ان میں مشترک دیکھی گئی ہیں، ایک یہ کہ وہ اپنے مزعوم مبتدع خارجی امام كو امیر المؤمنین کہتے ہیں اور اُس سے بیعت کو پوری امت پر فرض سمجھتے ہیں، خواہ وہ رعایا کے حقوق کی ادائیگی سے عاجز ہو، دوسرا یہ کہ وہ اپنے زیرِ اثر علاقوں کو دار الاسلام کہتے ہیں، اُس کی طرف ہجرت کو فرض سمجھتے ہیں اور باقی پوری دنیا کو دارالکفر کہتے ہیں۔

شیخ الاسلام علامہ حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خوارج جب بھی ظاہر ہوتے ہیں تو یہ مسلح  اور جنگجو لوگ ہوتے ہیں اور مسلمانوں میں سے بہترین لوگوں کو شہید کرتے ہیں "اصحاب قتل و سيف يقتلون خيار المسلمين”۔

البتہ رسول اللہ ﷺ نے ان خوارج کے بارے میں خوشی سے بھری ایک پیشن گوئی بھی فرمائی ہے کہ یہ خوارج جب بھی اٹھتے ہیں تو شکست کھاتے ہیں اور ختم ہوجاتے ہیں، "کلما طلع قرن قطع”، کیوں کہ یہ انتہائی بے رحم اور ظالم لوگ ہوتے ہیں اور یہ امت، امتِ مرحومہ ہے، اللہ تعالی ان ظالموں اور سفاکوں کو اس امت کی قیادت نہیں دیتے، اسی وجہ سے ہم اور آپ دیکھتے ہیں کہ خارجی اور تکفیری حرکات جب بھی اٹھتی ہیں تو بہت زور و شور میں ہوتی ہیں لیکن بہت ہی کم مدت میں عبرت ناک شکست کا شکار ہوجاتی ہیں، اور پوری امت ان کا باطل و بدعی مفکورہ اور منہج مسترد کردیتی ہے۔

معاصر خوارج کا منہج بھی اہلِ سنت کے تمام مکاتبِ فکر (احناف، موالک، شوافع، حنابلہ، اہلِ ظواہر یعنی سلفی غیر مقلدین یا اہلِ حدیث) نے متفقہ طور پر مسترد کیا ہے۔ اہلِ سنت کے ان مکاتبِ فکر کے کسی ایک معتبر عالم اور مرجع نے بھی ان کے حق میں فتویٰ نہیں دیا۔

گیارہ ستمبر کی عملیات کے بعد جب جہاد کے مختلف محاذ اور جبہات سامنے آئے تو غیر شعوری طور پر خارجی افکار جہادی محاذوں میں "الولاء والبراء، جمہوریت، وطنیت، عالمی اور محلی جہاد” اور اس طرح کے دیگر عنوانات کے تحت مجاہدین میں نشر ہوتے تھے، امارت اسلامیہ اور القاعدہ کی بعض شاخوں اور تحریک طالبان پاکستان کے مجاہدین میں بھی آہستہ آہستہ یہ افکار و نظریات نشر ہوتے رہتے تھے۔ کچھ وقت بعد جہادی قیادت نے اس خطرناک، جہاد کو تباہ کرنے والے اس موضوع اور خارجی فکر کو بھانپ لیا، اور ہر حرکت کے قائدین حکمت عملی کے ساتھ اس موضوع  کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوگئے، لیکن چونکہ ان خوارج کا ذیادہ تر نفوذ اور اثر القاعدہ کی شاخوں میں اور بالخصوص عراق اور شام کی شاخ میں تھا، اس لیے سب سے پہلا بگاڑ عراق و شام کے محاذوں پر سامنے آیا، پھر کچھ وقت بعد ان خوارج اور تکفیریوں نے بغیر اس صلاحیت کے کہ امت کو اُس کے حقوق دے سکیں، اپنی عالمی خلافت کا اعلان کردیا۔ تمام جہادی حرکات پر اور پوری امت پر اپنے مزعومہ مبتدع خلیفہ کی بیعت فرض اور واجب ہونے کا اعلان کردیا، اپنے زیرِ اثر علاقوں کو دارالاسلام کہا، اس کی طرف ہجرت کو فرض کہا، اسلامی دنیا کے باقی تمام ملکوں کو دار الکفر کہا۔

یہاں تک کہ جن خوارج نے اپنے زیرِ اثر علاقوں کی طرف ہجرت کی اور ان کے ساتھ ان کی ایسی منکوحہ بیٹیوں نے بھی ہجرت کی کہ جن کے خاوند ان کے ساتھ نہیں آئے تھے، تو انہوں نے اپنی ان منکوحہ بیٹیوں کے نکاح ان کے پچھلے خاوندوں کی طلاق کے بغیر ہی کسی دوسرے خارجی سے کردیے ۔

اس بدعی خلافت کا جیسے ہی اعلان ہوا تو تمام جہادی حرکات میں جو تکفیری فکر کے حامل خوارج پہلے سے موجود تھے انہوں نے پہلے تو اپنی جماعتوں پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ خلافت کا اعلان ہو گیا ہے انکی بیعت فرض ہے اس لیے انکی بیعت کرو، لیکن جب اہلِ سنت کی ان جہادی جماعتوں اور ان کے رہبروں نے یہ ناجائز اور زمینی حقائق کے خلاف دعویٰ رد کردیا اور ان پر یہ واضح کردیا کہ فی الحال کوئی بھی جہادی جماعت شرعی لحاظ سے اس لائق و مستحق نہیں ہے کہ اپنے امیر کو پوری امت کے لیے خلیفہ کی حیثیت دے، کیوں کہ جہاد کے ہر محاذ پر ابھی جنگ جاری ہے، ہر جگہ کَرّ و فَرَّ کی صورت ہے، دشمن ہر جہادی محاذ پر پوری طاقت کے ساتھ موجود ہے، جنگ ابھی تک کسی بھی محاذ پر اپنے اختتام کو نہیں پہنچی، فضاء پر دشمن کا قبضہ ہے، زمین پر بھی ہجومی حملوں اور جھاپوں کی صورت میں جنگ شدت سے جاری ہے، جنگ کے آخری نتائج ابھی تک معلوم نہیں ہیں، ایک دن پیش قدمی ہوتی ہے تو دوسرے دن پھر پسپائی ہوتی ہے، لہذا جنگی صورت حال ہے۔ خلافت کے بنیادی مقومات یعنی زمین، عوام اور نظام بھی موجود نہیں ہیں، نہ کوئی جہادی امیر خلافت کے بنیادی حقوق اور فرائض کی ادائیگی کرسکتا ہے، اس لیے یہ اعلان اور دعویٰ باطل ہے اور جہادی صف کو توڑنے کے مترادف ہے ۔

لیکن خوارج نہ دلائل کو دیکھتے ہیں اور نہ حقائق کو سمجھتے ہیں۔ لہذا جب وہ اپنی جہادی جماعتوں سے ناامید ہوگئے کہ انہوں نے بیعت نہیں کرنی تو پہلے تو اپنی جہادی تحریک (امارت، تحریک اور القاعدہ) سے نکل گئے، خوارج کے مبتدع و تکفیری امیر سے خلافت کے عنوان کے تحت بیعت کا اعلان کردیا، اور پھر اپنی سابقہ جہادی جماعتوں کی تکفیر شروع کردی، اور اس کے ساتھ ساتھ ان سے مسلح جنگ بھی شروع کردی، اور تمام جہادی تحریکات کو طواغیت کے مزدور اور ایجنٹ کہنا شروع کردیا، انہیں نعوذ باللہ مرتد کہنا شروع کردیا، اور اپنے زیر اثر علاقوں میں فرضی ہجرت کے نام پر جمع ہونا شروع کردیا۔ آپ کے اور ہمارے خطے کے خوارج (یعنی تحریک اور امارت کی صف کے خوارج) نے ننگرہار کے شنواریوں کے علاقے کو دارالاسلام کہا اور وہاں جمع ہونا شروع ہوگئے۔ یہ ایک خطرناک مرحلہ تھا لیکن جہادی حرکات کو اس سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ یہ خوارج جو سنی جہادی تحریکات میں داخل تھے اور ان میں اپنا ایک مقام بنالیا تھا، اِن تحریکات سے خود اپنی مرضی سے نکل گئے۔ اس کی وجہ سے اِن جہادی تحریکات کو ایک زرینہ موقع مل گیا کہ وہ اپنی ان مبارک تحریکات میں اصلاحی کام کر سکیں اور مستقبل میں خارجیت اور تکفیریت کا راستہ بند کرسکیں ۔

امارت کی صفوں میں جو ایسے عناصر باقی رہ گئے تھے جو کہ خوارج تو نہ تھے لیکن ان کے افکار میں ناجائز تشدد تھا، انہیں غیر اعلانیہ طور پر غیر مؤثر کردیا گیا۔ تحریک نے اپنے شہید امیر مولانا فضل اللہ رحمہ اللہ کی امارت کے آخری مہینوں میں، جس میں مفتی نور ولی محسود حفظہ اللہ تحریک کے نائب بھی تھے اور رہبری شوریٰ کے رئیس بھی، شیخ خالد حقانی رحمہ اللہ کے اصرار اور تجویز پر مفتی نعمت اللہ حفظہ اللہ (فاضل جامعہ دارالعلوم حقانیہ و متخصص جامعه فاروقیہ کراچی ورئیس دارالقضاء قسم التمیز تحریک طالبان پاکستان) کی قیادت میں "دار التحقیق” کے نام سے تحریک کے جید علماء کرام پر مشتمل ایک ادارہ تشکیل دیا، جس کی ذمہ داری قرآن و سنت کی روشنی میں سلف اور اکابر علماء دیوبند رحمہم اللہ کے فہم کے مطابق بعض ان موضوعات کی تحقیق ہے جو کہ جہادی صفوں میں خوارج کے پیدا ہونے کاسبب بنے۔

پاکستان کے جہاد کا فتویٰ پاکستان اور اس خطے کی اکثریتی سنی مکتب فکر یعنی دیوبند کے اکابرین نے دیا تھا، اور پانچ سو جید دیوبندی اکابرین اور مؤقر دیوبند اداروں نے تحریری شکل میں دیا تھا، اور اسی فتوے کی بنیاد پر جہادِ پاکستان شروع ہوا تھا۔ تحریری شکل میں جہادِ پاکستان کا فتویٰ صرف دیوبند کے اکابرنے ہی دیا تھا، جن کی اغلب اکثریت دیوبندی مکتبہ فکر کی سیاسی نمائندہ جماعت "جمعیتِ علماء اسلام” کے ارکان، ہمدرد یا اُس کی مرکزی شوریٰ کے اراکین تھے، جیسا کہ عارف باللہ مفتی اعظم پاکستان شیخ القرآن والحدیث حضرت مولانا مفتی محمد فرید صاحب رحمہ اللہ، شیخ القرآن والحدیث حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہید رحمہ اللہ (رکن مرکزی شوریٰ جمعیت علماء اسلام)، شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاه صاحب رحمہ اللہ (شیخ الحدیث جامعہ دارالعلوم حقانیہ و رکن جمعیت علماء اسلام)، شیخ القرآن والحدیث حضرت مولانا شیخ نصیب خان شہید رحمہ الله (شیخ الحدیث جامعہ دارالعلوم حقانیہ و رکن جمعیت علماء اسلام)۔

جہادِ پاکستان کے بارے میں ایشیاء کی سطح پر سب سے بڑے مؤقر دینی ادارے جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے ادارے اور جامعہ کی سطح پر رسمی فتویٰ "فتاویٰ حقانیہ” کی پانچویں جلد کی صفحہ ۳۴۲ میں موجود ہے۔ اسی طرح "فتاویٰ فریدیہ” اور "تجلیاتِ فریدیہ” میں بھی موجود ہے۔ اسی طرح پانچ سو جید اکابر علماء کرام کا فتویٰ "متفقہ فتویٰ” کے نام سے تحریک کے نشریاتی ادارے عمر میڈیا اور القاعدہ کے رسمی میڈیا "السحاب” سے باربار شایع ہوچکا ہے، یہ پانچ سو علماء کرام سب کے سب دیوبندی اور اِن میں سے اکثر جمعیت علماء اسلام کے اراکین یا ہمدرد تھے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ فتویٰ مجاہدین کے استفتاء کے بغیر ہی دیا گیا تھا۔

اس لیے یہ بات غلط ہے کہ تحریک اکابرین کی ہدایات اور رہنمائی کے خلاف نعوذ باللہ کوئی منحرف تحریک ہے۔ ہمارا دشمن چاہتا ہے کہ مجاہدین اور مذہبی طبقات اور خصوصاً دیوبندی مکتب فکر سے متعلق جماعتوں اور تنظیموں کے مابین فاصلے اور غلط فہمیاں پیدا کرے۔

الحمد للہ تحریک کی قیادت اکابرینِ علماء دیوبند رحمہم اللہ کی پیروکار، معتقد اور مقلد ہے، اکابرینِ علماء دیوبند کو اہلِ سنت والجماعت اور سلف کے مذہب اور مسلک کی صحیح تشریح اور ما انا عليه و اصحابه کا صحیح مصداق سمجھتی ہے، اور کسی بھی صورت اس سے پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے۔

البتہ ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ "پیغامِ پاکستان” کے نام سے جو گمراہ کن بیانیہ جاری ہوا ہے اور جس پر دیگر مکاتب فکر کے ساتھ ساتھ ہمارے اکابرین کے دستخط بھی موجود ہیں، تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ یہ دستخط یا تو جبراً لیے گئے ہیں، یا یہ جھوٹے دستخط ہیں جو کہ ان کی طرف منسوب کردئیے گئے ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ان میں سے بعض حضرات ایسے بھی ہیں جو اس بیانیے سے کئی سال پہلے ہی وفات پاچکے ہیں، جیسا کہ مولانا مظفر الدین رحمہ اللہ (فاضل دارالعلوم دیوبند و مؤسس مخزن العلوم کراچی) اس گمراہ کن اعلامیے سے کئی سال پہلے ہی وفات پاچکے تھے، اس لیے اس گمراہ کن بیانیے کی اکابرین کی طرف نسبت اکابرین کی توہین ہے، حتی کہ مہتمم دارالعلوم جامعہ حقانیہ شیخ القرآن والحدیث حضرت مولانا مولانا سمیع الحق شہید رحمہ الله کو "پیغامِ پاکستان” پر دستخط نہ کرنے کی وجہ سے انتہائی وحشتناک طریقے سے شہید کردیا گیا۔

خلاصہ یہ کہ تحریک کا مسلک و منہج وہی ہے جو اکابرینِ علمائے دیوبند اور امارت اسلامیہ کا ہے۔

اب نمبر وار ان سوالات کا جواب ملاحظہ فرمائیں جو اس خارجی نے تحریک کی قیادت کی طرف متوجہ کئے ہیں اور اُن کے جوابات مانگے ہیں۔

جہادِ پاکستان کے بارے میں اشیاء کی سطح پر سب سے بڑی مؤقر دینی ادارے جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے ادارے اور جامعہ کی سطح پر رسمی فتویٰ "فتاویٰ حقانیہ” کی پانچویں جلد کی صفحہ ۳۴۲ میں موجود ہے۔ اسی طرح "فتاویٰ فریدیہ” اور "تجلیاتِ فریدیہ” میں بھی موجود ہے۔ اسی طرح پانچ سو جید اکابر علماء کرام کا فتویٰ "متفقہ فتویٰ” کے نام سے تحریک کے نشریاتی ادارے عمر میڈیا اور القاعدہ کے رسمی میڈیا "السحاب” سے باربار شایع ہوچکا ہے، یہ پانچ سو علماء کرام سب کے سب دیوبندی اور اِن میں سے اکثر جمعیت علماء اسلام کے اراکین یا ہمدرد تھے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ فتویٰ مجاہدین کے استفتاء کے بغیر ہی دیا گیا تھا۔

اس لیے یہ بات غلط ہے کہ تحریک اکابر کی ہدایات اور رہنمائی کے خلاف نعوذ باللہ کوئی منحرف تحریک ہے۔ ہمارا دشمن چاہتا ہے کہ مجاہدین اور مذہبی طبقات اور خصوصاً دیوبندی مکتب فکر سے متعلِق جماعتوں اور تنظیموں کے مابین فاصلے اور غلط فہمیاں پیدا کرے۔

الحمد للہ تحریک کی قیادت اکابر علماء دیوبند رحمہم اللہ کی پیروکار، معتقد اور مقلد ہے، اکابر علماء دیوبند کو اہلِ سنت والجماعت اور سلف کے مذہب اور مسلک کی صحیح تشریح اور ما انا عليه و اصحابه کا صحیح مصداق سمجھتی ہے، اور کسی بھی صورت اس سے پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے۔

البتہ ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ "پیغامِ پاکستان” کے نام سے جو گمراہ کن بیانیہ جاری ہوا ہے اور جس پر دیگر مکاتب فکر کے ساتھ ساتھ ہمارے اکابرین کے دستخط بھی موجود ہیں، تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ یہ دستخط یا تو جبراً لیے گئے ہیں، یا یہ جھوٹے دستخط ہیں جو کہ ان کی طرف منسوب کردئیے گئے ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ان میں سے بعض حضرات ایسے بھی ہیں جو اس بیانیے سے کئی سال پہلے ہی وفات پاچکے ہیں، جیسا کہ مولانا مظفر الدین رحمہ اللہ (فاضل دارالعلوم دیوبند و مؤسس مخزن العلوم کراچی) اس گمراہ کن اعلامیے سے کئی سال پہلے ہی وفات پاچکے تھے، اس لیے اس گمراہ کن بیانئے کی اکابرین کی طرف نسبت اکابر کی توہین ہے، حتی کہ مہتمم دارالعلوم جامعہ حقانیہ شیخ القرآن والحدیث حضرت مولانا مولانا سمیع الحق شہید رحمہ الله کو "پیغامِ پاکستان” پر دستخط نہ کرنے کی وجہ سے انتہائی وحشتناک طریقے سے شہید کردیا گیا۔

خلاصہ یہ کہ تحریک کا مسلک و منہج وہی ہے جو اکابرینِ علمائے دیوبند اور امارتِ اسلامیہ کا ہے۔

اب نمبر وار ان سوالات کا جواب ملاحظہ فرمائیں جو اس خارجی نے تحریک کی قیادت کی طرف متوجہ کئے ہیں اور اُن کے جوابات مانگے ہیں۔

 

جاری ہے…

ان شاء اللہ تعالیٰ