بغدادی کی خلافت اور جہادی تنظیمیں

#image_title

 

حصہ چہارم

صلاح الدین (ثانی)

ابوبکر بغدادی نے جولانی کو بیعت کرنے کا حکم دیا لیکن جولانی نے انکار کر دیا جس نے بغدادی کو بہت غصہ دلایا ، لیکن پھر بھی بغدادی نے جولانی کو بشار الاسد کی فوج اور سیرئن لبریشن آرمی (جیش الحر) کے ساتھ لڑنے کا حکم دیا۔

جیش الحر شام کی آزادی کے لیے شام میں اسد حکومت کے ساتھ لڑ رہی ہے۔ اس کے خلاف لڑنے کے حکم پر جولانی نے بغدادی سے شرعی جواز مانگا، جس پر بغدادی اور بھی غضب ناک ہو گیا۔

بعد میں بغدادی نے جولانی کو دو باتوں میں سے ایک کا انتخاب کرنے کا کہا:

1. یا تو جبہۃ النصرہ کو تحلیل کر کے اس کا وجود ختم کر دے

2. یا بغدادی کے تمام احکامات کو قبول کرے اور ان کی تعمیل کرے

لیکن جولانی نے دونوں شرائط کو مسترد کر دیا

یہ بہت حسّاس وقت تھا، امریکہ نے جولانی کے سر کی بہت بڑی قیمت لگا رکھی تھی۔

لیکن جعلی خلافت کا بچگانہ ذہنیت رکھنے والا خلیفہ (ابوبکر بغدادی) اپنی ضد پر قائم رہا، اس نے شام اپنا ایک ایلچی روانہ کیا تاکہ جولانی کو قائل کر سکے لیکن جولانی نے تسلیم نہیں کیا۔

اس کے فوراً بعد بغدادی نے ایک اور نمائندہ شام بھیجا اور اسے جبہۃ النصرہ کے ایک اہم رکن کو جولانی سے بغاوت کرنے اور نام نہاد دولت اسلامیہ کے شام میں داخلے کی راہ ہموار کرنے کی ترغیب دلانے کا کام سونپا۔

شام میں بغدادی کےنمائندے کے دوروں اور ملاقاتوں کے بعد درج ذیل کچھ کم عقل رہنما اور ارکان جبہہ سے علیحدہ ہو گئے اور بغاوت کی بیماری میں مبتلا ہو گئے۔

1. ابو ریتاج تونسی

2. ابو عمر عبادی تونسی

3. ابو ضمضم حسنی مغربی

4. ابو الحجاج نواری مغربی

5. ابوبکر قحطانی

ان پانچوں نے جبہہ سے علیحدگی اختیار کر لی اور خیالی دولہ کے پیچھے چل پڑے۔

بغدادی کی دولہ کی مجلس شوریٰ کے گیارہ ارکان تھے جو سب کے سب ماضی میں بعث پارٹی کے کمیونسٹ فوجی افسران رہ چکے تھے۔

1. حاجی بکر: ائیر فورس کا جرنل اور بعد میں انٹیلی جنس کا افسر رہا۔

2. ابو احمد علوانی: عراقی فوج کا افسر تھا۔

3. ابو علی انباری: عراقی فوج کے ایک ڈویژن کا کمانڈر تھا۔

4. ابو مسلم ترکمانی: عراقی حکومت کا اہلکار تھا۔

5. ابو عبد الرحمان بلاوی: فوجی کمیشن کا رکن تھا۔

6. ابو محند سویداوی: عراقی فوج کا ایک جرنل تھا۔

7. عاصی عبیدی: عراقی فوج کا بریگیڈئر تھا۔

8. ابو عمر قرداش : عراقی حکومت کا اہلکار تھا۔

9. ابو ایمن عراقی: عراقی حکومت کا اہلکار تھا۔

10. ابو لقمان: عراقی فوج کا جرنل تھا۔

11. ابو عمر شیشانی: جارجیائی نژاد چیچن انٹیلی جنس افسر تھا۔

ان کمیونسٹ رہنماؤں نے مشورہ دیا کہ بغدادی خود شام جائے اور جاکر جولانی سے سب اختیارات واپس للے کر اسے نکال دے اور اس کے ساتھیوں کو دولہ کی اطاعت میں لے کر آئے۔

بغدادی شام چلا گیا، تاکہ جولانی سے ملاقات کر سکے، لیکن جولانی نے ملنے سے انکار کر دیا

بعد میں بغدادی نے ایک فرمان کے ذریعے سے جبہۃ النصرہ کو تحلیل کرنے کا اور خلافت کے قیام کا باضابطہ اعلان کر دیا ۔ اس نے اپنی مجلسِ شوریٰ کے کمیونسٹ رہنما حاجی بکر کو شام بھیجا اور اسے ان تمام جہادی جماعتوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا جو اس یہودی خلافت سے بیعت اور اس کی اطاعت نہیں کرتے۔

جاری ہے…