بغدادی خلافت اور جہادی تنظیمیں | حصہ پنجم

صلاح الدین (ثانی)

#image_title

جیسا کہ ہم نے پچھلے حصے میں بیان کیا تھا کہ حجی بکر کميونسٹ ابوبکر بغدادی کے حکم پر شام پہنچ گئے اور جبھۃ النصرۃ اور دیگر جہادی تنظیموں کے خلاف لڑنے لگے۔

وقت کے گزرنے کے ساتھ لواء التوحید کے مجاہدین کے طرف سے وہ ایک مدبرانہ آپریشن میں محاصرہ کیے گئے جس کے نتیجے میں عبد الرحمن بن ملجم خارجی کا یہ پیروکار اپنے انجام کو پہنچا اور امت محمدیہ ہمیشہ کے لئے اس کے شر سے محفوظ رہا۔

ولله الحمد

حجی بکر کی موت کے بعد داعش نے شام میں صرف جیش الحر گروپ کو کافر اور مرتد کہا اور ان سے جنگ کی۔

شورا میں باقی کمیونسٹوں نے داعش کے جنگجوؤں کو اسرائیل کے منصوبوں اور اسرائیلی سرحد کی حفاظت کے لیے شام میں دوسرے جہادی گروپوں کے ساتھ لڑنے کی ترغیب دی، لیکن ان کے پاس کوئی شرعی دلیل اور وجہ نہیں تھی۔

تاہم، جھوٹے پروپیگنڈے، اطاعتِ امیر اور خلافت کے ناموں کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے داعش کے جنگجوؤں کو لڑنے پر مجبور کیا۔

شامی جہادی گروپس اور داعش ایک دوسرے سے خوب لڑے، اور اچانک ایک معاہدہ طے پایا اور کہا گیا؛ دونوں فریقین کو یہ معاملہ ایمن الظواہری تک پہنچانا چاہیے۔

ایمن الظواہری نے دواعش کو جواب دیتے ہوئے کہا: آپ عراق پر توجہ دیں اور شام کو جبھۃ النصرۃ پر چھوڑ دیں۔ یہ فیصلہ ابوبکر کے لیے قابل قبول نہ تھا۔ کیونکہ اگر داعشی خوارج شام سے پیچھے ہٹ جاتے تو جبہۃ النصرۃ سے اسرائیل کو خطرہ لاحق ہو جاتا اور یہ بات نہ اسرائیل کے لیے قابل قبول تھی اور نہ ہی ابوبکر البغدادی کے لیے، کیونکہ اسرائیل کا اصل ایجنٹ (جاسوس) ابوبکر بغدادی تھا، اور اسرائیل کی سرحد کی حفاظت کرنا اس کا فرض تھا، اور اس کی جھوٹی خلافت کو بھی اسرائیل کی حمایت حاصل تھی۔

اس فیصلے کے بعد ابوبکر اور کمیونسٹ جرنیلوں نے بغاوت کی اور یہ مسئلہ اٹھایا کہ اسلام کی کوئی سرحد اور حدود نہیں ہیں اور ظواہری سائیکس باکو معاہدے کے پابند ہیں، جس پر برطانوی اور فرانسیسی جرنیلوں کے درمیان دستخط ہوئے تھے اور مشرق وسطیٰ کو تقسیم کیا گیا تھا۔

داعش کے الفاظ کے جواب میں ہم کہتے ہیں: اگر ظواہری سرحد اور حدود متعین کرتا ہے، تو تم نے عراق اور شام میں اسرائیل کے ساتھ سرحدیں کیوں متعین کی اور تم نے ابھی تک اسرائیل کی طرف ایک گولی بھی نہیں چلائی۔

آپ صومالیہ اور نائیجیریا تو پہنچ سکتے ہیں، لیکن اسرائیل کے ساتھ بالکل خاموشی، کیوں ؟

اب آتے ہیں اپنے موضوع کی طرف۔

ابوبکر اور کمیونسٹ جرنیلوں کی طرف سے ظواہری کے فیصلے کو مسترد کرنے کے بعد، داعش نے بڑے پیمانے پر حملے کیے اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بے گناہوں کا خون بہایا، اس کے بعد ظواہری نے کچھ مشہور علماء سے بات کرنے اور ابوبکر کو راضی کرنے کو کہا، جن میں شیخ عبداللہ المحیسینی، ابو خالد السوری اور ابو سلیمان المہاجر کو منتخب کیا گیا لیکن بہت سارے کوششوں کے باوجود ابوبکر نے اس اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا اور ظواہری کے حکم کو دوبارہ مسترد کر دیا۔

باقی آئیندہ۔۔۔۔