بغدادی خلافت اور جہادی تنظیمیں

#image_title

بغدادی خلافت اور جہادی تنظیمیں

آخری حصہ

صلاح الدین (ثانی)

 

جلال آباد کے جنوبی علاقوں میں داعش کے خراسان شاخ کے گورنر حافظ سعید نے امارت اسلامیہ کے تمام مجاہدین کو وہاں سے بے دخل کردیا، جبکہ امارت کے مجاہدین نے داعشی دہشت گردوں کا سامنا نہیں کرنا چاہا، لیکن علاقے میں داعشی خوارج کے تشدد اور دہشت کی وجہ سے مجاہدین داعش کے خلاف میدان جنگ میں اترنے پر مجبور ہوئے، یہیں تھا کہ امارت کے مجاہدین نے بہت کم وقت میں ان علاقوں پر قبضہ کرلیا جہاں داعشی خوارج سرگرم اور فعال تھے۔

 

اس کے بعد امارت اسلامیہ نے جعلی خلافت کی آندھی قیادت کو ایک خط بھیجا اور ان سے اس صورتحال کے بارے میں پوچھا، جس کے جواب میں عدنانی نے سابق امریکی صدر بش کا لہجہ اختیار کیا، جس طرح بش نے 2001 میں امارت کے مجاہدین کو سخت پیغام دیا تھا، پیغام کچھ یوں تھا کہ تم یا تو ہتھیار ڈال دو! یا مارے جاؤگے۔

 

عدنانی نے امارت کے مجاہدین سے بھی بش کے طرز و طریقے پہ کہا: یا تو ابوبکر البغدادی کی جعلی خلافت کو قبول کرو! یا تمہیں قتل کر دیا جائے گا

اس سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوا کہ داعش امریکہ کا سرکاری منصوبہ ہے۔

 

حقیقت یہ ہے کہ حافظ سعید سرحد کے نہ تو اُس طرف(پاکستان) جمہوری نظام کے خلاف نہیں لڑا اور نہ ہی سرحد کے اِس طرف (افغانستان) جمہوری نظام کے خلاف  لڑا بلکہ ان بدبختوں نے امارت اسلامیہ کے خلاف اپنی دشمنی کا اعلان کیا، یہی داعش کی خارجیت کی واضح دلیل ہے۔

یہی داعشی خوارج کے بھیجنے والے جرنیلوں کا حکم تھا جو مغربی اور مشرقی کفار کے خلاف لڑنے والی تمام جہادی تنظیموں کو تباہ کرنا چاہتے تھے۔ ان سب کا کنٹرول اور چارجر امریکہ کے ہاتھ میں تھا، جس کی ایک مثال امریکی انتخابات کے امیدوار (رابرٹ کینڈی) کی تقریر ہے جس نے کہا تھا؛ ہم نے داعش کو ایجاد کیا تھا اور ہمیں اسے ختم کرنا ہوگا۔

اختتام!