بغدادی خلافت اور جہادی تنظیمیں، حصہ ششم

#image_title

بغدادی خلافت اور جہادی تنظیمیں

حصہ ششم

 

صلاح الدین ثانی

ایمن الظواہری کے حکم پر اجلاس کا انعقاد اور ابوبکر البغدادی کی جانب سے اس کی منسوخی اور عدم قبولیت اس کے خارجی ہونے کی واضح دلیل ہے، ابوبکر کی واضح خارجیت اور بغاوت کے ساتھ، خیالی اور جعلی خلافت کے ترجمان ابو محمد العدنانی نے ایک صوتی پیغام میں تمام جہادی تنظیموں، محاذوں اور امارتوں کو تحلیل شدہ قرار دیا، اور ابوبکر البغدادی کی بیعت کو واجب اور لازمی قرار دیا۔

شیطان کی اس مکار آواز نے عراق و شام کی جنگ سے بدعنوانی اور جہالت کے کالے اندھیروں کو افغانستان اور پاکستان کے دروازوں تک پہنچا دیا، جس کے نتیجے میں ننگرہار کے عبدالرحیم مسلم دوست نامی شخص نے بغدادی کے ہاتھ پر بیعت کی۔ امارت اسلامیہ کے مجاہدین کو صفوں سے الگ کرنے کی کوششیں شروع کیں اور اسلام کا نام لے کر کسی بھی قسم کی رسوائی سے گریز نہ کرنے والے سابقہ مجرم مسلم دوست کے پاس جمع ہوگئے، کیونکہ جعلی خلافت کی بنیاد ہی سانپوں، قاتلوں، غاصبوں، مجرموں، ظالموں، کمیونسٹوں، اور جہادی تنظیموں سے نکالے گئے غداروں سے بنا تھا، پاکستان کی تیرا ایجنسی سے، حافظ سعید نے، جو تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ تھے، بغدادی سے بیعت کی اور بغدادی نے خراسان کا گورنر مقرر کیا، گوانتانامو سے رہا ہونے والے عبدالرؤف ابو طلحہ کو اس نے اپنا نائب بنایا۔

یہ تو معلوم تھا کہ حافظ سعید شروع سے تحریک کے ساتھ نہیں تھے اور موقع کا انتظار کر رہے تھے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ سعید کو پاکستان کی سرزمین میں جنگ لڑنا چاہیے تھا، وہ وہاں سے جلال آباد کے جنوبی علاقوں میں آگیا مراکز اور مکانات بنادیے، جن کا اثر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا اور پھر اس نے امارت اسلامیہ کے تمام مجاہدین کو علاقے سے بے دخل کر دیا، اس لیے کہ ان مجاہدین نے اپنے آپ کو بغدادی کے ملیشیا بننے سے انکار کر دیا۔

اور بعد میں اسی علاقے کے ان لوگوں کو قتل اور دہشت زدہ کرنا شروع کر دیا جو امارت اسلامیہ کے ھمکار یا ہم نظر تھے۔

یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب حضرت  علی رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں خوارج نے اپنے پیروکاروں کو سرزمین نہروان کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا اور جب وہ وہاں پہنچ گئے تو وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک صحابی رہتے تھے جن کا نام عبداللہ بن خباب بن الارت رضی اللہ عنہ تھا۔

انہوں نے عبداللہ بن خباب کو گرفتار کرکے اس سے کہا:  کہ تم اللہ کے دین سے مرتد ہو گئے ہو (معاذ اللہ) اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تحکیم پر راضی ہو۔

چنانچہ سعید خارجی نے بھی جلال آباد کے جنوبی علاقوں کے ان عام لوگوں کو قتل کیا جو امارت اسلامیہ کے ساتھ تھے کہ وہ کیوں امارت اسلامیہ کے ساتھ کھڑے ہیں اور بغدادی کی بیعت کیوں نہیں کرتے۔