اے تاجک نوجوانو، تھوڑا سا غور تو کرو!

#image_title

اے تاجک نوجوانو، تھوڑا سا غور تو کرو!

 

شہاب الافغانی۔

 

 

 

داعشی خوارج ایک ایسا گروہ ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ اور جھوٹے خلافت کے قیام کا دعویٰ کرتے ہیں۔

 

داعش مغرب کی ایماء پر مسلمانوں اور جہادی تنظیموں کے خلاف برسرپیکار ہے اور دنیا کے سامنے اپنے آپ کو حقیقی اسلام اور شریعت کے نافذ کرنے والے کے طور پر متعارف کروا رہی ہے جس نے نہ صرف مسلمانوں بلکہ اسلام کو بھی تشدد اور بربریت کے مذہب کے طور پر متعارف کرایا ہے اور بدنام کیا ہے۔

 

داعشی خوارج ہالی ووڈ کی طرز کی داعش فلموں اور جنگی کھیلوں کے ذریعے امت مسلمہ کے نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں اور انہیں مسلمانوں کے خلاف لڑنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔

 

ان دهوکہ کھانے والے نوجوانوں میں تاجکستان کے وہ سلفی ذہنیت کے نوجوان بھی شامل ہیں جو داعش کے پروپیگنڈے کا شکار ہو کر امارت اسلامیہ کے خلاف لڑے، یہ بات قابل ذکر ہے کہ افغانستان عالمی سطح کا واحد ملک ہے جو اسلامی نظام سے وابستہ ہے اور اسمیں مکمل اسلامی نظام نافذ ہے۔

 

ایک افغان مسلمان کے طور پر میرے پاس تاجک نوجوانوں سے چند سوالات ہیں:

 

اے تاجکستان کے نوجوانو!

 

آپ امارت اسلامیہ سے اس بہانے لڑ رہے ہیں کہ ہم افغانستان میں اسلامی نظام اور خلافت قائم کریں گے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ افغانستان میں حکمران کون ہیں اور افغانستان میں امریکی جارحیت کے خلاف 20 سالہ جنگ کا مقصد کیا تھا؟

 

کیا آپ نے افغانستان اور تاجکستان کے انتظامی دفعات کا مطالعہ کیا ہے، کہ کون سی اسلامی اور کون سی سیکولر ہیں؟

 

کیا تاجکستان میں 35 سال سے کم عمر کے مسلمانوں کو حج کرنے کا حق ہے؟

 

کیا تاجکستان میں نوجوان اور بوڑھے مسلمانوں کو داڑھی رکھنے کا حق ہے؟

 

کیا تاجکستان میں مسلمان لڑکی کو حجاب پہننے کا حق ہے؟

 

کیا سکولوں اور یونیورسٹیوں میں لڑکیوں کو حجاب اتارنے پر مجبور نہیں کیا جاتا؟

 

کیا 2015 میں تاجکستان میں حجاب کی 160 سے زیادہ دکانیں بند نہیں ہوئیں؟

 

کیا پرائیویٹ دینی مدارس بند نہیں ہوئے؟

 

کیا وہاں مساجد میں 18 سال سے کم عمر کے بچوں کی اجازت ہے؟

 

 

 

تاجکستانی نوجوانوں کے پاس مندرجہ بالا سوالات کے جوابات نہیں ہیں، اور اگر ہیں بھی تو وہ تسلی بخش نہیں ہوں گے۔

 

ہمیں اور آپ کو خود ہی حساب لگانا چاہیے کہ مسلمانوں کی نجات کی جدوجہد کس ملک میں لڑنی چاہیے اور کس ملک میں لڑنے کی ضرورت نہیں؟ لہٰذا ہماری اور آپ کی جدوجہد کا ردعمل لازماً وہ ملک ہوگا جہاں مسلمانوں کو اسلامی شریعت سے محروم رکھا گیا ہے، جنہیں یہ حق دیا جانا چاہیے اور ہماری توجہ اسی ملک پر مرکوز ہونی چاہیے جس میں مسلمان اسلامی قوانین سے محروم ہیں اور اقدار سے محروم ہیں۔

 

میں یہ ضرور کہوں گا کہ تاجک نوجوان کو اپنے مریض پر توجہ دینی چاہیے اور اسے وقت پر دوا دینا چاہیے۔