ایرانی حکام کے بے جا الزامات

#image_title

ایرانی حکام کے بے جا الزامات

شہاب الافغانی

افغانستان میں امارت اسلامیہ کی حاکمیت اور ملک کی مکمل خودمختاری ہی تھی جس نے اسلام اور ملک کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دیا۔

افغانستان کا پورا جغرافیہ ایک ہی کمانڈ اور مضبوط انتظام کے تحت ہے، امارت اسلامیہ کسی کو یہ موقع نہیں دیتی کہ وہ افغانوں اور دیگر ہمسایہ ممالک  کی سلامتی میں رخنہ ڈالیں۔

داعش کے دہشت گردوں کے خلاف امارت اسلامیہ کی پالیسی واضح ہے۔ امارت نے ملک کے مختلف حصوں میں شر پسند عناصر کے خلاف فیصلہ کن کاروائیاں کیں، اس کے مثبت اور مؤثر نتائج سامنے آئے، یہاں تک کہ امارت اسلامیہ کی انٹیلی جنس فورسز نے پاکستان اور ایران کو داعش کے دہشت گردوں کے ممکنہ حملوں کے بارے میں معلومات بھی فراہم کیں۔ لیکن ان ممالک نے ان معلومات کی بنیاد پر کوئی مثبت کاروائی نہیں کی۔

اس کے باوجود خطے کے اور دنیا کے دیگر ممالک افغانستان کے بارے میں جھوٹا پراپیگنڈہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ افغانستان داعش کے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔

امارت اسلامیہ کے خلاف پڑوسی ممالک ناصرف جھوٹا پراپگنڈہ کرتے ہیں بلکہ اپنے ذمہ دار اداروں کی ناکامیوں کا الزام بھی دوسروں پر ڈالتے ہیں۔ اس رویے سے ناصرف ممالک کے باہمی تعلقات کمزور ہوتے ہیں بلکہ دشمن کو بھی مضبوط ہونے کا موقع ملتا ہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ ایران دشمن کے انسانی و مالی وسائل کے حوالے سے تحقیقات کرے اور ان کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھائے۔

المرصاد نے حال ہی میں داعش کے قیدیوں کے، کسی زور زبردستی کے بغیر، حقیقی اعترافات نشر کیے ہیں جن میں ان قیدیوں  نے اپنے مالی اور انسانی وسائل کا انکشاف کیا۔

کامیاب کاروائیوں کے نتیجے میں امارت اسلامیہ کے مجاہدین کے ہاتھوں پکڑے گئے داعش کے یہ ارکان تاجکستان کے شہری ہیں اور ان کے مالی ذرائع میں ترکی سمیت یورپی ممالک شامل ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ ایران اور دیگر فریق ہمسایہ ممالک اساسی طور پر مسئلے کے حل کے لیے کام کریں اور امارت اسلامیہ پر بلا ضرورت تنقید سے گریز کریں۔

مسئلے کو اساسی طور پر حل کرنے کے لیے دشمن کے مالی، نجی اور پراپیگنڈہ ذرائع کو جڑوں سے خشک کرنا ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ تاجکستان سمیت دیگر فریق ممالک مل کر اس مسئلے کو سنجیدگی  سے حل کریں  اور ہر حملے کے بعد افغانستان پر  بے جا الزام تراشی

نہ کی جائے۔