اپنی فکر کے کیپسول میں بند خوارج کے نام!

محمود محفوظ

#image_title

داعش نے نئے النباء میگزین میں امارت اسلامیہ کے عالمی برادری کے ساتھ تعلقات پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ طالبان صلیبی کفار کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی امید رکھتے ہیں، کیونکہ امریکہ امارت اسلامیہ کی بین الاقوامی قانونی حیثیت کی راہ میں رکاوٹ ہے اس لیے انہیں صلیبیوں سے تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
مزید یہ بھی کہا گیا کہ طالبان امریکہ کی ناراضگی سے بھی خائف ہیں اس لیے وہ امریکہ کے مخالفین جیسے چین، روس اور ایران سے تعلقات استوار کر رہے ہیں جو اسلام دشمن ہیں۔ آخر میں اپنے جنگجوؤں کو مخاطب کر کے کہا گیا کہ امارت اسلامیہ کے ساتھ ساتھ ترکی اور قطر کی حکومتوں کے رہنماؤں کو قتل کریں، کیونکہ یہ یہود اور امریکہ کے ساتھ تعلقات قائم کر رے ہیں اور معمول پر لا رہے ہیں، اور یہ مسجد اقصیٰ تک پہنچنے اور اس کے دفاع کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
میں اپنی فکر کے کیپسول میں بند خوارج کو مختصر الفاظ میں یہ کہوں گا:
جہاں بھی اسلام ایک سیاسی نظم کی حیثیت سے ابھرے گا، اس نظام کی تشکیل میں امیر، وزیر، سفیر، گورنر بھی ہوں گے، قاضی اور عدالت بھی ہو گی، سیاست اور حکومت بھی کی جائے گی، ایک قوم کا انتظام سنبھالا جائے گا، معاشی بہتری و ترقی کے ذریعے عوام کو خوشحال زندگی کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، تعلیم و تربیت میں بہتری آئے گی اور نئی نسل کی بہتر تربیت ہو گی۔ یہ اور اس طرح کے دیگر تمام مسائل ایک قوم سے تعلق رکھتے ہیں، یہ سب نظام کی ذمہ داری ہوتے ہیں اور نظام ان تمام مسائل اور ضروریات کو پورا کرتا ہے، تو یہ بات واضح ہے کہ اس مقصد کے لیے دیگر نظاموں اور حکومتوں کے ساتھ اقتصادی، سیاسی، تعلیمی اور زندگی کے دیگر مسائل میں مختلف لین دین بھی کیا جائے گا۔ اگر اسلامی نظام کنارہ کش ہو جائے، تو کیا اس کی قوم اس سے مطمئن ہو گی؟
کیا عوام اس نظام کے کاموں اور اس کے حکام سے نفرت نہیں کرے گی؟
کیا یہ کنارہ کشی اسلام کی سیاسی شکست کا باعث نہیں بنے گی؟
یہ کوئی تصوراتی خلافت تو نہیں ہے کہ علاقہ کسی اور کے زیر تسلط ہو اور اس پر گورنر مقرر کر دیا جائے۔ یہ اسرائیلی ریاست کے مفادات کا منصوبہ ( داعش) تو نہیں ہے کہ اسرائیلی مفادات کے لیے اسلام کا نام لے کر کام کیا جائے۔
جن ممالک میں یہود مخالف اشخاص ابھرتے ہیں انہیں یہ ہدف بناتے ہیں، جس منبر و محراب سے یہود کے خلاف بات کی جاتی ہے، اس منبر و محراب اور مسجد سے کھلے عام دشمنی کا اعلان کرتے ہیں۔ مذکورہ ممالک جو ان کا ہدف ہیں، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ، میں صرف افغانستان کی بات کرتا ہوں، ہمارا ملک اور اس ملک کے حکمران یہود کے ساتھ ہر لحاظ سے دشمنی کا اعلان کرتے ہیں، اور بیت المقدس کی آزادی کی امید اور خواہش رکھتے ہیں، اس کے ساتھ ان دیگر دو ممالک کے بارے میں تبصرہ کیا گیا ہے، کیا دنیا میں اور ممالک نہیں ہیں کہ صرف ان ممالک کا نام لیا گیا؟
ان کی اس رائے سے واضح ہو جاتا ہے کہ کہ اسرائیلی ریاست کے محافظین ہیں۔
اسی غیر آزمودہ فکر کے ساتھ یہ اپنے خالی الذہن ساتھیوں پر بغیر سوچے سمجھے فتوے صادر کرتے ہیں۔