امیر المؤمنین شیخ صاحب حفظہ اللہ سے پوری عقیدت و محبت کے ساتھ!

عزيز الدين مصنف

#image_title

ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم
قصّۂ درد سُناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم
سازِ خاموش ہیں، فریاد سے معمور ہیں ہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم

حال ہی میں پاکستان میں امارت اسلامیہ افغانستان کی نمائندہ کونسل نے امارت اسلامیہ کی قیادت کے لیے نہایت بے ادبی کے ساتھ توہین آمیز زبان استعمال کی۔ جو شخص مجاہدین کا نمائندہ بن کر بات کررہا ہے، اس کے پاس نہ تو اس حوالے سے علم ہے، اور نہ ہی وہ امارت اسلامیہ کی حیثیت کو سمجھتا ہے۔
امارت اسلامی عالمی جہاد کی قیادت کر رہی ہے یا اس کے راستے میں رکاوٹ ہے، ذیل میں دیکھتے ہیں!

الحمد لرب الانصار والمہاجرین والصلاۃ والسلام علی قائد المجاہدین محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین (الذین فازوا بقتل الکفار و المشرکین )الی یوم الدین

تمام تعریفیں انصار و مجاہدین کے رب کے لیے اور قیامت تک کے لیے درود و سلام ہوں مجاہدین کے قائد محمد ان کی آل اور اصحاب پر (جنہوں نے کفار اور مشرکین کو قتل کر کے کامیابی پائی)۔
اما بعد!
امارت اسلامیہ افغانستان، جیسا کہ اس کے نام سے ہی ظاہر ہوتا ہے، اس وقت قائم ہوئی جب مجددِ وقت، عمر ثالث، امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ نے مفسدین کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کی کچھ۔ لوگ کہتے ہیں کہ امارت اسلامیہ کے جہاد کا واحد مقصد افغانستان سے غیر ملکیوں کو نکالنا تھا، لیکن یہ نظریہ، فکر اور آئیڈیالوجی اس نظریے کے بالکل خلاف ہے جس کا آغاز ملا محمد عمر رحمہ اللہ کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے۔
امارت اسلامیہ کو غیر ملکیوں (امریکہ اور نیٹو) کا اس وقت سامنا کرنا پڑا، جب اپنے پہلے دور میں اس نے مفسدین کو شمال سے نکال باہر کیا، اس وقت تک امارت اسلامیہ نے داخلی مفسدین کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کیا تھا۔ ان مفسدین میں وہ مجاہدین بھی شامل تھے جنہوں نے روس کے خلاف جہادی جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا۔ ملا محمد عمر رحمہ اللہ نے سب سے پہلے کن کو نشانہ بنایا؟ ان کو جو کہ جمہوری راستے پر بھی نہیں تھے، بلکہ سابقہ مجاہدین تھے۔ اگر کسی کو اس کا علم نہیں تو امارت اسلامیہ کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لے۔
جب امریکی شمالی اتحاد کی مدد سے ملک پر حملے کے ارادے سے داخل ہوئے، یہ وہ وقت تھا جب طالبان کا امریکیوں (غیر ملکیوں) سے سامنا ہوا، اور انہوں نے اپنے سابقہ فتویٰ کے مطابق جہاد جاری رکھا۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ امارت اسلامیہ کے ساتھ اس مبارک غزوہ میں پوری دنیا کے مجاہدین (عرب و عجم، مہاجر و انصار) نے بھرپور حصہ لیا، ان کے بارے میں امارت اسلامیہ کا مؤقف اور رائے دو مختلف نکات سے ظاہر ہوتی ہے:

  1. امارت اسلامیہ کی واضح سیاسی پالیسی
  2. امارت اسلامیہ کی قیادت کا نظریہ، فکر، عقیدہ اور اہداف

جن چیزوں کا واضح سیاسی پالیسی سے تعلق ہے، اس میں دیگر ممالک کے ساتھ سیاسی تعلقات، اپنی خارجہ پالیسی و نقطۂ نظر، تجاربی تبادلہ، معاشی مسابقت، اور اس طرح کے دیگر موضوعات شامل ہیں۔ اس وقت اس پالیسی میں شامل امور سے ہٹ کر ہر طرح کے تلخ مؤقف کا اظہار ممکن ہے، کیونکہ کفار کے ساتھ معاملات اور تعلقات میں بہت فرق پایا جاتا ہے۔ باقی دنیا کے ساتھ امارت اسلامیہ کا تعامل آزاد انسانی حقوق اور غیر اقدامی متبادل کی بنیاد پر ہوتا ہے، کیونکہ دوسروں کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات مادی اقدار پر مبنی ہوتے ہیں۔
دوسری اہم چیز اسلامی امارت کی قیادت کا نظریہ، فکر، عقیدہ اور مقاصد ہیں، یہی حصہ امارت اسلامیہ کے حقیقی جوہر کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو امارت اسلامیہ کی فطرت میں شامل ہے، اور یہ فقط دنیا کے مجاہدین کا ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا تقاضہ بھی ہے۔ یہ فکر اور نظریہ کسی جغرافیائی حدود تک پابند نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اسے صرف اور صرف کامل بصیرت کی نظر سے ہی دیکھا جا سکتا ہے۔
امارت اسلامیہ صرف افغانوں کی ملکیت نہیں، یہ ان دو ارب مسلمانوں کا خواب ہے کہ جنہوں نے ساری عمر اللہ تعالیٰ کے اس مبارک لشکر کے قدموں کی آہٹ سننے کے لیے ان کی راہ تکتے گزار دی۔
اگر کوئی اس پر یقین نہیں کرتا، تو وہ براہ کرم امارت اسلامیہ کے ایک ادنیٰ اور چھوٹے مجاہد کے ساتھ کہیں علیحدہ ملاقات کر لے، اس سے امارت اسلامیہ کے مقاصد، اہداف، اصول، اقدار اور پالیسیوں کے بارے میں پوچھے، تو اسے سمجھ آجائے گی کہ امارت اسلامیہ کا مطلب کیا ہے!
اس بارے میں مزید وضاحت کی ضرورت نہیں، ان شاء اللہ۔ جہاں تک کونسل کی باتوں کا تعلق ہے، تو وہ امارت اسلامیہ کے رسمی مؤقف کی بجائے صرف ان کے ذاتی مفادات کی نمائندگی کرتی ہیں۔
تسلیمات!