امریکی نمائندے ٹام ویسٹ کی طرف سے داعش کے لئے مہم جوئی کی کوشش

#image_title

امریکی نمائندے ٹام ویسٹ کی طرف سے داعش کے لئے مہم جوئی کی کوشش

 

طاہر احرار

یہ پہلا دفعہ نہیں ہے کہ امریکی حکام داعش کے لیے مہم چلانے کی کوشش کر رہے ہیں

بلکہ وہ پہلے بھی کئی مرتبہ داعش کے لئے میڈیائی کمپاین اور مہم چلا چکے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل اسی امریکی نمائندے ٹام ویسٹ نے اعتراف کیا تھا کہ افغانستان میں داعش کو بری طرح شکست ہوئی ہے۔

اور آج کہہ رہے ہیں کہ داعش افغانستان میں سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

ایک طرف دنیا جانتی ہے کہ افغانستان میں داعش کی خراسان شاخ مٹنے اور ختم ہونے کی درشل میں ہے کیونکہ اس کے رہنما مارے جا چکے ہیں یا جیلوں میں ہیں، پورے ملک میں وہ جہاں بھی سر اٹھاتے ہیں تو مارے جاتے ہیں اور ان کے ارادے خنثی کیے جاتے ہیں حتیٰ کہ وہ اپنی پوری کوشش کے باوجود عاشورہ کی تقریب یا یوم آزادی کی تقریب میں خلل نہ ڈال سکے۔

اب جب کہ داعش تختہ مرگ پر ہیں اور داعشی خوارج مرنے کا انتظار کر رہے ہیں ٹام ویسٹ نے افغانستان میں ان کو بڑا خطرا متعارف کرایا ہے جو کسی بھی طور پر حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔

اور یہ پروپیگنڈا اس حال میں ہو رہا ہے، کہ چین کے سرکاری سفیر نے افغانستان کے وزیر اعظم ملا محمد حسن کو منظوری کا خط پیش کر کے سفارت خانے کا باضابطہ آغاز کر دیا۔

امریکی حکام ان پروپیگنڈوں کے ذریعے دنیا کے سامنے افغانستان میں عدم اعتماد کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں

اور دوسری طرف وہ گرے ہوئے داعشی خوارج کے لیے سہارا بننا چاہتے ہیں۔

لیکن افغانستان کے دشمن خواہ وہ غلام ہو یا آقا سب جانتے ہیں کہ وہ خطے میں بری طرح شکست کھا چکے ہیں اور ان کی پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں۔

الحمد للہ