امارت اسلامیہ خلافت کا اعلان کیوں نہیں کرتی؟

#image_title

امارت اسلامیہ خلافت کا اعلان کیوں نہیں کرتی؟

امارت اسلامیہ اپنی امارت کو ترجیح کیوں دیتی ہے؟ اس نے اپنی امارت کو ایک خطے تک محدود کیوں کر رکھا ہے؟
ان اعتراضات کا جواب دینے سے قبل ہم پہلے خلافت کی فرضیت پر کچھ بات کرلیں۔

خلافت کی فرضیت:
مسلمانوں کی دنیا و آخرت کی سعادت و کامیابی اسلامی نظام اور خلافت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، اسی طرح سے اسلامی دعوت کا غلبہ اور حاکمیت کا دارومدار بھی خلافت پر ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا مقصد، یعنی دین کو غالب کرنا بھی خلافت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے تمام مسلمانوں پر خلافت کا قیام اور خلیفہ کی تقرری فرض قرار دی ہے، تاکہ ہر دور میں خلافت کے ذریعے رسالت کا مقصد یعنی دیگر ادیان پر دینِ اسلام کا غلبہ حاصل ہو سکے۔
خلافت کی فرضیت، قرآن و حدیث اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ خیر القرون سے لے کر آج تک تمام فقہاء، مجتہدین، اور علمائے کرام خلافت کے قیام کی فرضیت کے بارے میں متفق ہیں۔

خلافت کی فرضیت قرآنِ پاک کی روشنی میں:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً”(۳۰) البقره
ترجمہ: ’’بے شک میں زمین پر اپنا نائب اور خلیفہ بنانے والا ہوں۔‘‘
امام قرطبی رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے:
"هذه الآية أصل في نصب إمام وخليفة يُسمع له ويُطاع؛ لتجتمع به الكلمة، وتنفذ به أحكام الخليفة، ولا خلاف في وجوب ذلك بين الأمة ولا بين الأئمة”.[تفسیر القرطبي: ۱۶۴/۱]
ترجمہ: ’’یہ آیت امام اور خلیفہ قائم کرنے میں اصل ہے ایسا خلیفہ اور امام جس کی بات سنی جائے اور اس کی اطاعت کی جائے تاکہ اس کے ساتھ کلمہ مجتمع رہے اور اس کے ساتھ خلیفہ کے احکام نافذ ہوں۔ امام اور خلیفہ کے وجوب کے متعلق امت کے ائمہ کا کوئی اختلاف نہیں۔ ‘‘
سورہ النور میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا”(۵۵)
ترجمہ: ’’تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا۔‘‘
اس آیت میں دنیا میں ایمان اور اعمال صالح کا نتیجہ خلافت کے قیام کو دکھایا گیا ہے، جس کا لازمی نتیجہ اسلام کا استحکام اور امن کا قیام ہے۔ اور خلافت قائم ہو گی تو لازمی طور پر ایک خلیفہ بھی ہو گا کہ جس کی اطاعت کی جائے گی، اور اگر خلافت نہیں ہو گی تو اس کے قیام کے لیے ایک گروہ ضرور موجود ہو گا اور اس گروہ کے امیر کی اطاعت کی جائے گی۔

جاری ہے…!

ماخذ: شیطانی لشکر