امارت اسلامیہ خلافت کا اعلان کیوں نہیں کرتی؟ | چھٹی قسط

خلافت کے زوال کے نقصانات

خلافت کے خاتمے کے بعد  سے دنیا میں مسلمانوں کی جو حالت ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ آج امتِ مسلمہ کا وجود بے معنی ہے، خلافت ہاتھ سے چلے جانے کے بعد پوری دنیا میں اسلامی قوانین معطل ہو گئے، جہاد کا نظام درہم برہم ہو گیا، کوئی مرکزیت نہیں رہی، عالمِ اسلام چھوٹے چھوٹے ممالک میں تقسیم ہو گیا، کفار سیاسی، عسکری اور اقتصادی میدانوں میں مضبوط ہو گئے اور مسلمان  دنیا کے ہر کونے میں مغلوب اور بے بس ہو کر رہ گئے۔

ایسا اس لیے ہوا کہ امتِ مسلمہ نے ’علیکم بالجماعۃ‘ (یعنی جماعت کے ساتھ شامل ہونا تم پر فرض ہے) کے حکم پر عمل نہیں کیا، اور نہ صرف ملکوں اور گروہوں میں تقسیم ہو گئے بلکہ ’’ید اللہ علی الجماعۃ‘‘ (یعنی جماعت کے ساتھ اللہ کی نصرت ہے)،  سے جڑی اللہ کی نصرت سے محروم ہو گئے۔

اور جب زوال کے تمام مراحل پورے ہو گئے تو جلد ہی شیطان اور اس کے ایجنٹ یہودیوں نے عالمِ اسلام میں اپنی سازشیں پھیلانا شروع کر دیں، پھر جو اسلام باقی بچا تھا وہ بھی ختم ہو گیا، اب نام کے تو مسلمان ہیں لیکن اپنی زندگیوں پر غیر اللہ کا قانون نافذ کر رکھا ہے۔

اگر آج ہم حقیقتِ حال کو دیکھیں، تو یہ بدحالی اصل میں اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے کہ جس میں ہم مبتلا ہو چکے ہیں، آج ہم اللہ تعالیٰ کے دین کی درست نمائندگی نہیں کر رہے۔ ہم زمین پر اللہ تعالیٰ کے نمائندے مقرر ہوئے ہیں، لیکن آج ہم پوری دنیا میں ایک بھی ملک کی مثال پیش نہیں کر سکتے کہ جس کے بارے میں ہم یہ کہہ سکیں کہ لوگو! آؤ یہ نظامِ خلافت ہے، یہ نظامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے، یہ اللہ تعالیٰ کے دین کی برکات ہیں۔ اسی لیے ہم اللہ تعالیٰ کے عذاب میں جکڑے ہوئے ہیں۔

اس عذاب سے نکلنے کا واحد ایک ہی راستہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۃ حسنہ کی پیروی ہے، جو ہمارے لیے مینارۂ نور ہے۔ اور اس کا مطلب فقط یہ ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالیں اور خلافت کے قیام کے لیے زبان، جان اور مال سے ہر ممکن کوشش کریں۔ کم از کم دنیا میں کسی ایک ملک میں صحیح اسلامی نظام دنیا والوں کو دکھائیں اور پھر دنیا کو دعوت دیں کہ آئیں اور دیکھیں یہ ہے اسلام اور ہے خلافت۔

ان شاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔

ماخذ: شیطانی لشکر