امارت اسلامیہ خلافت کا اعلان کیوں نہیں کرتی؟ | چوتھی قسط

#image_title

خلافت کی فرضیت صحابہ کرام اور اسلاف کے اقوال کی روشنی میں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جو خطبہ ارشاد فرمایا، اس میں انہوں نے فرمایا:

سنو! محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں اور اس دین کو قائم کرنے کے لیے ایک خلیفہ کی ضرورت ہے۔ (مواقف، الرابع بحوالہ اسلام کا سیاسی نظام)

یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین سے پہلے خلیفہ کا انتخاب کیا، حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ اس بات کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’صحابہ کرام کی توجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین سے پہلے خلیفہ کی تقرری کی طرف مبذول ہوئی، اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شریعت میں خلیفہ کی تقرری کی فرضیت کا حکم معلوم نہ ہوتا، تو وہ کبھی بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین سے پہلے خلیفہ کی تقرری نہ کرتے۔‘‘ (ازالۃ الخفاء)

اسی طرح احمد بن حجر الہیثمی لکھتے ہیں:

جان رکھو! صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبوت کے دور کے بعد امام اور خلیفہ کی تقرری پر اجماع کیا، بلکہ اسے تمام فرائض سے اہم ترین فرض گردانا، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین خلیفہ کی تقرری کے بعد کی گئی۔ (الصواعق المحرقۃ)

اس بارے میں اما طبری رحمہ اللہ نے عمر رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے:

’’جب میں مر جاؤں تو تین دن تک مشورہ کرو اور چوتھے دن سے پہلے پہلے اپنا خلیفہ لازمی مقرر کر لینا۔‘‘ (المفردات للراغب الاصبہانی)۔

امام نسفی رحمہ اللہ نے مسلمان کے لیے قرآن و سنت کی رو سے امام اور خلیفہ کی ضرورت کو یوں بیان کیا ہے:

’’مسلمانوں کے لیے ایک ایسے امام کی ضرورت ہے جو احکام نافذ کرے، حدود قائم کرے، سرحدوں کی حفاظت کرے، زکوٰۃ جمع کرے، باغیوں، چوروں اور ڈاکوؤں کو ختم کرے، جمعہ اور عیدین کی نمازیں قائم کرے۔‘‘ (شرح القائد النسفیہ)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے خلافت کے قیام کو تمام دینی فرائض میں اہم ترین فریضہ قرار دیا:

’’یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عوام کے ریاستی اور معاشرتی امور کے لیے خلافت اور حکومت کا قیام نہ صرف دین کے عظیم فرائض میں سے ہے بلکہ دین و دنیا کا قیام اس کے بغیر ممکن نہیں۔‘‘ (السیاسہ الشرعیہ)۔

ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو واجب کیا ہے اور یہ قدرت اور اختیار کے بغیر ممکن نہیں، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جو تمام احکامات واجب کیے ہیں، جیسے جہاد، عدل کا قیام، حج، جمعہ اور عیدین کی نمازوں کا قیام، مظلوم کی مدد، اور حدود کا قیام، یہ سب مال اور حکومت کے بغیر ممکن نہیں۔‘‘ (مجموعۃ الفتاویٰ لابن تیمیہ رحمہ اللہ)

امام علاء الدین الکاسانی الحنفی رحمہ اللہ نے فرمایا:

’’اہل حق میں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ امامِ اعظم یعنی خلیفہ کی تقرری فرض ہے۔‘‘ (بدائع الصنائع)

 

جاری ہے…!