امارت اسلامیہ خلافت کا اعلان کیوں نہیں کرتی؟ | تیسری قسط

#image_title

خلافت کی فرضیت احادیث کی روشنی میں:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"من مات ولیس في عنقه بیعه، مات میته جاهلیة” (صحیح مسلم: ۲/ کتاب الإمارۃ)

ترجمہ: ’’جو شخص شرعی امیر کی بیعت کیے بغیر مر گیا وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلیفہ کی بیعت کو فرض قرار دیا ہے اور خلیفہ کی بیعت اسے مقرر کیے بغیر نہیں کی جا سکتی۔ اس طرح خلیفہ کی تقرری بھی فرض ہوئی، اور اسی طرح خلافت کی عدم موجودگی میں موت بھی جاہلیت کی موت کے مترادف ہوئی۔

اسی لیے ایک حدیث میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں:

"من مات ولیس علیه اِمام مات میته جاهلیة”.(کتاب السنه)

ترجمہ: ’’جو ایسی حالت میں مرا کہ اس پر کوئی خلیفہ و امام کی حکومت نہ تھی، تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘

اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلیفہ کی اطاعت کو بھی فرض قرار دیا ہے:

"اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، وَإِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ” (صحیح البخاري)

ترجمہ: سنو اور اطاعت کرو چاہے تم پر ایک حبشی غلام ہی امیر کیوں نہ مقرر ہو۔

ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"السَّمْعُ والطَّاعَةُ علَى المَرْءِ المُسْلِمِ فِيما أحَبَّ وكَرِهَ” ( رواه البخاري عن ابن مسعود رضي الله علیه عنه)

ترجمہ: ’’ایک مسلمان پر پسندیدگی اور کراہت دونوں حالتوں میں سننا اور اطاعت کرنا لازم ہے۔‘‘

خلیفہ کی اطاعت تب ممکن ہے جب وہ موجود ہو، لیکن اگر وہ موجود نہیں تو اس کی اطاعت کا حکم کیسے دیا جا سکتا ہے؟

اس لیے خلیفہ کی اطاعت کی فرضیت کے ساتھ ساتھ خلیفہ مقرر کرنے کی فرضیت بھی ثابت ہو گئی۔

 

جاری ہے…!

 

ماخذ: شیطانی لشکر