امارت اسلامیہ خلافت کا اعلان کیوں نہیں کرتی؟

دوسری قسط

#image_title

امارت اسلامیہ خلافت کا اعلان کیوں نہیں کرتی؟
دوسری قسط

خلافت کی ذمہ داری
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
(یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا أَطِیعُوا اللهَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ وَأُولِی الأَمْرِ مِنْکم). (النساء: ۵۹)
اے اہل ایمان! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اور وہ جو تم میں سے صاحب امر ہے۔
اس آیت میں اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، اور اولی الآمر کے وجود کے بغیر اس کی اطاعت ممکن نہیں ہے، جب کسی کا وجود ہی نہیں تو اس کی اطاعت کیسے ہو گی؟
لہذا اولی الامر کی اطاعت کی فرضیت کے ساتھ اولی الامر کی تقرری کی فرضیت بھی نص کے ساتھ ثابت ہے، پھر نظام خلافت بنیادی طور پر عدل و انصار کے قیام کی عملی شکل اختار کرتا ہے، اور اسی کے لیے تمام انبیاء بھیجے گئے:
لَقَدْ أَرْسَلْنا رُسُلَنا بِالْبَیِّناتِ وَ أَنْزَلْنا مَعَهُمُ الْکِتابَ وَ الْمِیزانَ لِیَقُومَ النّاسُ بِالْقِسْطِ (الحدید ۲۵)
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی ہوئی نشانیاں دے کر بھیجا، اور ان کے ساتھ کتاب بھی اتاری، اور ترازو بھی، تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔
اور داؤد علیہ السلام کو صاف صاف یہ حکم دیا گیا تھا کہ:
یا داوُدُ إِنّا جَعَلْناکَ خَلِیفَةً فِی الْأَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النّاسِ بِالْحَقِّ(ص ۲۶)
اے داؤد ! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہٰذا تم لوگوں کے درمیان برحق فیصلے کرو۔
پھر خلافت کا قیام بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا مقصد یعنی دین کو غالب کرنے کی تکمیل بھی ہے۔
(هُوَ ٱلَّذِىٓ أَرْسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلْهُدَىٰ وَدِينِ ٱلْحَقِّ لِيُظْهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُشْرِكُونَ). (الصف ۹)
وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچائی کا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ وہ اسے تمام دوسرے دینوں پر غالب کردے، چاہے مشرکین کو یہ بات کتنی ہی بری لگے۔
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام اگر قیامت تک باقی ہے، تو اس کا غلبہ اور فتح ہر دور میں رسالت کا مقصد ہے، اور اسلام کا غلبہ خلافت و حکومت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ لہذا اسلام کے غلبے کے حصول کے لیے خلافت کا قیام ضروری ہے۔

جاری ہے…!

ماخذ: شیطانی لشکر