بدخشاں میں داعشی خوارج کے گرفتار نیٹ ورک کے اعترافی بیانات

#image_title

المرصاد کو بدخشاں میں داعشی خوارج کے گرفتار نیٹ ورک کے اعترافی بیانات کی ویڈیو موصول ہوئی ہے۔ داعشی خوارج کے اس گروپ کی قیادت صوبہ بدخشاں کے ضلع ’یفتل بالا‘ کا رہائشی عبد الرزاق کر رہا تھا۔ اس نے اعتراف کیا کہ امارت اسلامیہ کی فتح کے بعد صوبہ بدخشاں کے صدر مقام فیض آباد میں ہونے والے تمام حملے اسی گروپ نے کیے۔

گروپ کے سربراہ نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے فیض آباد کے پولیس چیف پر، نائب گورنر پر، مسجد میں فاتحہ خوانی پر، اور کابل بنک کی عمارت کے قریب حملے کیے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے فیض آباد میں فوجی مرکز پر حملے کے لیے ایک کار بم بھی تیار کیا تھا لیکن وہ ناکام رہا۔

عبد الرزاق کے مطابق مسجد میں فاتحہ خوانی پر دھماکے کے بعد اس نے بدخشاں کے پولیس چیف پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا، لیکن اسے ایسا کرنے سے پہلے ہی سکیورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا۔

ویڈیو میں وہ ہتھیار اور گولہ بارود بھی دکھایا گیا ہے جو داعشی خوارج کو ملے تھے اور ان کی کوشش تھی کہ اسے بدخشاں کے ضلع شہداء تک پہنچائیں اور اپنی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کریں۔ یاد رہے کہ ضلع شہداء کے پہاڑوں میں باغیوں کا بھی ایک گروہ موجود تھا لیکن سکیورٹی فورسز کی کامیاب کاروائی میں وہ ختم ہو گئے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ بدخشاں کے گورنر کے شہید معاون پر اور کابل بینک کے دفتر کے قریب ہونے والے حملے خود کش حملے تھے اور ہمیشہ کی طرح اس کے مرتکب تاجک شہری تھے۔ داعشی خوارج تاجک لوگوں کو دینی فہم کی کمی کے باعث تیزی سے اپنی سازش کا شکار کر رہے ہیں اور انہیں خود کش حملوں کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق امریکی قبضے کے خلاف افغان عوا م کے حقیقی جہاد کی کامیابی کے بعد افغانستان میں تقریباً ۹۰ فیصد خود کش حملے تاجک شہریوں نے کیے ہیں۔