افغان مہاجرین کو ہراساں کرنے سے پاکستان کو کیا ملے گا؟

#image_title

افغان مہاجرین کو ہراساں کرنے سے پاکستان کو کیا ملے گا؟
زبیر عاطف

اپنے اندرونی بحران پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد، پاکستانی حکومت نے کئی دہائیوں سے پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو گرفتار کرنے اور ان پر ظلم کرنے کی طرف توجہ مبذول کی ہے۔ ابتدا میں بعض علاقوں میں یہ کاروائیاں کچھ اہلکاروں کے نسلی تعصب کی وجہ سے شروع ہوئیں، لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ افغانوں کے خلاف یہ تعصب حکومتی سطح تک پہنچ چکا ہے۔
۱۹۷۰ء کی دہائی کے اواخر میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد لاکھوں افغانوں نے پہلی بار پاکستان ہجرت کی۔ پاکستانی عوام نے اپنے افغان بھائیوں کو کھلے دل سے گلے لگایا، لیکن حکومت نے ہمیشہ اس معاملے کو دباؤ ڈالنے کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا ہے۔
پاکستان کی معیشت اور سماجی بہبود میں افغان مہاجرین نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک لحاظ سے پاکستان ہجرت کرنے والے افغانوں کو مہاجر نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ڈیورنڈ لائن فرضی ہے اور اگر کوئی افغان اس لائن کو عبور کرتا ہے تو اس کی دوسری طرف اس کے دیگر رشتہ دار رہتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ پاکستان نے ایسے نازک وقت میں بے گناہ افغان مہاجرین خاندانوں (جس میں زیادہ تر بچے، خواتین اور بوڑھے ہیں) کو گرفتار کرنا کیوں شروع کیا ہے؟
اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ہم یہاں چند وجوہات کا ذکر کریں گے۔
پاکستان شدید معاشی بحران کا شکار ہے، حکومت کا خیال ہے کہ افغان مہاجرین پاکستانی معیشت پر بوجھ ہیں اور انہیں نکال دینے سے پاکستانی معیشت معمول پر آ جائے گی۔ یہ سوچ بالکل غلط ہے کیونکہ افغان مہاجرین کی پاکستان میں جائیدادیں اور کارخانے ہیں اور اگر وہ نکال دیے گئے تو اس سے لاکھوں پاکستانی بھی براہ راست متاثر ہوں گے۔
پاکستان کی موجودہ حکومت جس پر مکمل طور پر فوج کا کنٹرول ہے، ہو سکتا ہے کہ بین الاقوامی اداروں سے رقوم حاصل کر کے ہمیشہ کی طرح مہاجرین پر خرچ کرنے کی بجائے فوج اور سیاست دانوں کے ذاتی اکاؤنٹس میں ڈالنا چاہتی ہو۔
پاکستان کو پچھلی چند دہائیوں میں افغان مہاجرین کے نام پر کروڑوں ڈالر کی امداد ملی ہے، لیکن تقریباً یہ سب کی سب چند لوگوں کی ذاتی جیبوں میں چلی گئی۔
یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستانی انتظامیہ اپنی اندرونی ناکامیوں اور اسکینڈلز پر پردہ ڈالنے اور عوام کے ذہن کو کسی اور طرف موڑنے کے لیے اس معاملے کو ہوا دے رہی ہو۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان افغان مہاجرین کے معاملے کو افغانستان پر دباؤ ڈالنے کے آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح افغانستان پاکستانی حکومت کے اُن بے بنیاد اور فرضی خطرات کو ختم کرنے پر مجبور ہو جائے گا جن کا افغانستان سے قطعاً کوئی تعلق نہیں اور جس کا سرچشمہ پاکستان کی اندرونی غلط پالیسیاں اور ناکامیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ افغان مہاجرین کے معاملے کو حل کرنے کے لیے کوئی راستہ دکھائے گا، (فی الحال افغان حکومت مہاجرین کی واپسی کے لیے بڑے منصوبوں پر کام کر رہی ہے) لیکن افغان مہاجرین کے ساتھ ناروا سلوک کی وجہ سے پاکستان بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ کھو رہا ہے اور اس سے افغانوں کے دلوں میں نفرت میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔