افغانی عوام خوارج کو کبھی لبیک نہیں کہیں گے۔

#image_title

افغانی عوام خوارج کو کبھی لبیک نہیں کہیں گے۔

عابد احمد زئی

 

ہم اور آپ نے گزشتہ 20 سالہ جارحیت کے دوران بہت سے تلخ مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں، ہمارے افغان عوام کو سلاخوں کے پیچھے ڈالا گیا اور بگرام، گوانتانامو، پلچرخی اور دیگر کئی جیلوں میں طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں اور کسی نے ان کی آواز نہیں سنی۔

 

ہم نے ایسی مائیں بھی دیکھی ہیں جو اپنے کھوئے ہوئے بیٹے کی یاد میں آنسو بہاتی ہیں اور ایسے باپ بھی دیکھے ہیں جنہوں نے یعقوب علیہ السلام جیسے بیٹے کے لیے اپنی بینائی کھو دی تھی، لیکن فرق اس جگہ تھا کہ یعقوب علیہ السلام کو اپنا پیارا بیٹا مل گیا اور ان کی بینائی پہلے سے زیادہ تیز ہوگئی، لیکن افسوس! ہمارے ملک کے بیشتر باپ دادا مرتے دم تک اپنے بیٹوں کی یاد میں غمگین اور نابینا رہے۔

 

آخر کار ان شہیدوں اور قیدیوں کا خون رنگ لایا اور امریکہ نے اس کافر ملک میں اپنے سر پر پانی ڈال کر قبضے کے شعلوں کو ختم کر دیا۔

 

اکثر باپوں، ماؤں اور پیاری بہنوں نے اس بہانے خود کو تسلی دی کہ ان کے بیٹوں اور بھائیوں کے خواب پورے ہو گئے۔

 

تو اب آپ فیصلہ کریں!

کیا شہید ہونے والوں کے وہی باپ، مائیں، بہنیں اور بھائی امریکی ساختہ نیٹ ورک (موساد کے تربیت یافتہ فوجیوں) کو اپنے گھروں میں جگہ دیں گے؟

نہیں!

کبھی نہیں!
اب وطن عزیز میں وہ داعشی خوارج کے ٹھکانوں کو ایسی فیصلہ کن ضربیں دیں گے جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوں گی اور بہت جلد وطن عزیز افغانستان سے ان کے ناپاک بیج کا صفایا کر دیں گے۔

ان شاء اللہ.