افغانستان میں داعشی خوارج کی شکست کی وجوہات

#image_title

افغانستان میں داعشی خوارج کی شکست کی وجوہات

مولوی مستغفر الحنفی

داعش گروہ "جو تکفیر، ناحق قتل و غارت اور مظالم سے مشہور ہے” نے عراق اور شام میں فتنہ برپا کرنے کے بعد افغانستان پر توجہ مرکوز کردیا، تاکہ بے گناہ مسلمانوں کو شہید کریں، لیکن افغانستان میں بہت جلد اور تھوڑے ہی عرصے میں اللہ تعالٰی کی مدد و نصرت سے وہ اپنے شیطانی غرور اور سرگرمیوں سے روک دیئے گئے۔ اور مجاہدین نے پلک جھپکتے ہی داعش کے سرغنوں(رؤساء الشیاطین) کو ان کے برے اعمال کی سزا دی اور انہوں نے خود اپنی زبان سے شکست تسلیم کرلی۔

ہم آپ کو ان عوامل کی نشاندہی کریں گے جو افغانستان میں داعش کی شکست کا باعث بنے ہیں۔

 

1: اجنبی ایجنڈے کی پیروکاری، خارجی اور انتہا پسند نظریہ:

داعش کی سوچ، جو کہ اسلام مخالف بنیاد پرست سوچ ہے، مسلمانوں اور بالخصوص افغانوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے، کیونکہ داعش امریکہ اور اسرائیل کا ایجاد کردہ مشترکہ منصوبہ ہے جن کو وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور اس منصوبے کی عمل در آمد کی جگہ اسلامی ممالک ہیں۔

افغانستان میں داعشی خوارج اس وقت نمودار ہوئیے جب امریکہ اور نیٹو افواج شکست کے دہانے پر تھے، امریکہ داعش کے نفرت انگیز تصور کو اسلام اور جہاد کے نام سے استعمال کرنا چاہتا تھا اور اس طرح اپنے آپ کو فتح کی منزل تک پہنچانا چاہتا تھا،

لیکن الحمدللہ افغانستان کے شریف اور غیور عوام امریکہ کی چال سمجھ گئے۔ اور داعش کے خلاف امارت اسلامیہ کے مجاہدین کی بھرپور حمایت کی، اور بیرونی فتنہ کے مقابلے میں امارت اسلامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کو اپنا دینی فرض سمجھا۔

 

2: مسلمانوں کی تکفیر اور شہادت

خوارج اپنے ظھور کے ساتھ ساتھ ہمیشہ مسلمانوں کی تکفیر کرنا شروع کر دیتے ہیں، ہر مسلمان کے لیے کفر و ارتداد کے مختلف القاب و الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

وہ کافر، مشرک، مرتد اور بدعتی جیسے الفاظ کے فتویٰ جاری کرتے ہیں اور اس کے بعد انہیں شہید کر دیتے ہیں۔ننگرہار اور کنڑ میں داعشی خوارج نے بے گناہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد” جن میں بچے، بوڑھے اور وہ مجاہدین بھی شامل تھے، جنہوں نے امریکی غاصبوں پر زمین تنگ کرکے آگ نما بنا دی تھی” کو بے دردی سے شہید کردیا۔

 

3: مذہب اور تقلید کو شرک سمجھنا

 

افغانستان میں 99 فیصد سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر کا تعلق اہل السنۃ والجماعت سے ہے، اسی لیے افغانستان کے لوگ چار مشہور مذاہب میں سے حنفی مذہب کی پیروی کرتے ہیں، اور وہ اپنے تمام فقہی احکام حنفی مسلک سے لیتے ہیں،

افغانستان میں مدتوں سے ایک ہی مذہب حنفی پر اتفاق ہے، لیکن داعشی خوارج فقہی مذہب کو ایک مستقل اور الگ مذہب مانتے ہیں۔ اور مسلمانوں سے اس لئے نفرت کرتے ہیں، کہ وہ شرعی نصوص سے خود کیوں استنباط نہیں کرتے اور فقہی مذہب کی پیروی کیوں کرتے ہیں، اور اسی کے ساتھ ساتھ مشہور ائمہ کے بارے میں برا بھلا کہنا ان کے خارجی ہونے کی مزید تصدیق کرتا ہے۔

 

4:علماء کو شہید کرنا

 

داعش (خوارج) وہ لوگ ہیں جو امت کے بہترین لوگوں پر حملہ کرتے ہیں، امت کے بہترین لوگ وہ علماء ہیں جو مسلمانوں کو راہ راست پر لاتے ہیں اور برے راستوں سے روکتے ہیں۔

افغان عوام وہ لوگ ہیں جو اسلام، علماء اور اسلامی شعائر کو ہر چیز سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور انہیں (ریڈ لائن)  سمجھتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ داعشی فتنہ سے بیزار اور بری ہیں۔

 

5:مساجد میں دھماکے کرنا

 

داعشی خوارج اپنے فکری مخالفین کو ختم کرنے کے لیے افغانستان اور دیگر اسلامی ممالک کے اندر مساجد میں دھماکے کر رہے ہیں، جو کہ صراحتاً شعائر اللہ کی بے حرمتی ہے اور یہ فعل ان حملہ آوروں کے پل پر قدم رکھنا ہے، جنہوں نے ملک کے دینی مدارس اور مساجد پر بمباری کی، خوارج کا کام مسلمانوں کو تلاوت، عبادت اور ذکر کے دوران شہید کرنا ہے۔

خلاصہ:

تمام مذہبی، اسلام پسند، جہادی اور ملک کے غیرتی باشندے داعشی (خوارج) کے باطل نظریہ سے نفرت کرتے ہیں، کیونکہ داعش نے خلافت کے جھوٹے دعوے کی بنیاد پر امت اسلامیہ کے بے شمار بے گناہ علماء، مجاہدین اور عام مسلمانوں کو شہید کردیا۔ جبکہ وہ کفار کی بربریت کے سامنے خاموش رہتے ہیں، لہٰذا اس بنیاد پر یہ لا مذہب انتہا پسند گروہ کبھی بھی افغانستان اور دیگر قبائل میں اپنے مذموم مقاصد حاصل نہیں کر سکیں گے۔ ان شاء اللہ