افغانستان میں اسرائیل کے دو منصوبے

#image_title

افغانستان میں اسرائیل کے دو منصوبے

طاہر احرار

 

بہت سے ناسمجھوں کو آج سمجھ آجائے گی۔

ہم نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ داعش اسرائیل کا ایک منصوبہ ہے، لیکن کچھ لوگ اس بات کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے!

۱۔ فرانس میں دن دھاڑے جبہۂ مقاومت کے لوگوں نے اعلان کیا کہ ہم داعشی ہیں اور ہم امارت اسلامیہ کے خلاف لڑتے ہیں۔ ان کے بیانات، تصاویر اور ویڈٰیوز سوشل میڈیا پر نشر ہوئیں اور اب بھی موجود ہیں۔

۲۔ داعشی اشرف غنی کے دور میں مختلف علاقوں سے شمال کی طرف منتقل ہوئے، اس بات کی خبر کسی کو نہیں تھی لیکن حامد کرزئی نے اس راز کو فاش کر دیا۔

۳۔ کابل کی فتح سے چند روز قبل، داعش کے وہ رہنما جو کابل کے ہوٹلوں میں مہمان تھے، جنہیں حکومت نے سنبھالا ہوا تھا اور انہیں خرچ اور مصارف دے رہے تھے، وہ ان ہوٹلوں سے شمال کی طرف منتقل ہو گئے۔

۴۔ ہر صوبے کی فتح کے ساتھ ان صوبوں کی جیلوں میں بند داعش کے قیدی جیلوں سے نکل کر شمال کی طرف چلے گئے۔

یہ سب باتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جبہۂ مقاومت اور داعش کے درمیان بہت گہرے تعلقات موجود ہیں۔

اگر آپ شام اور عراق کے حالات کا مطالعہ کریں اورامریکی اور اسرائیلی ایجنسیوں کی طرف سے شائع ہونے والی رپورٹس کو دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ داعش کے اسرائیل کے ساتھ کتنے گہرے تعلقات ہیں اور وہ اسرائیل کے مفادات کے لیے کتنی پرعزم ہے۔

حالیہ دنوں کی سب سے زیادہ چونکا دینے والی خبر یہ تھی کہ احمد مسعود نے امارت اسلامیہ کے خلاف اسرائیل سے مدد مانگی جس سے ان رپورٹس کی مزید تصدیق ہو گئی کہ مقاومت اور داعش ایک ہی منصوبہ ہے جس کی اسرائیل بھرپور حمایت کرتا ہے۔

لیکن افغان یہ نہیں مانتے!

آج ہر پشتون، تاجک، ازبک، ترکمان اور ہزارہ کے منہ پر ایک ہی بات ہے اور وہ یہ کہ ہم احمد مسعود کی مخالفت کرتے ہیں اور اپنے ملک کو کسی اور کے مفادات کے لیے دوبارہ غیر محفوظ نہیں ہونے دیں گے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ اسرائیل کے دونوں منصوبوں کو عوام نے مسترد کر کے افغانستان میں ملیا میٹ کر ڈالا ہے۔