افغانستان اور چین باہمی تعامل سے رسمی تعلقات کی طرف بڑھ رہے ہیں

#image_title

افغانستان اور چین باہمی تعامل سے رسمی تعلقات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

رحمت اللہ فیضان

13 ستمبر 2023 کو کابل میں افغان حکومت کے وزیر اعظم نے چین کے نئے سفیر جاؤ شینگ کے ہاتھوں چین حکومت کا اعتماد نامہ ایک خصوصی تقریب کے دوران قبول کیا، اس تقریب میں امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی بھی موجود تھے، اعتماد نامے کے حوالے سے نئے چینی سفیر نے کہا کہ چین افغانستان کی آزادی، علاقائی سالمیت اور اپنے فیصلوں میں ان کی خودمختاری کا مکمل احترام کرتا ہے۔ اور چین کی افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوئی پالیسی نہیں ہے اور نہ ہی وہ چاہتا ہے۔

افغانستان خطے میں اپنا اثر و رسوخ بنا رہا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں معیشت اور امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ، بدعنوانی، جرائم اور منشیات کے خلاف جنگ میں بہت پیشرفت ہوئی ہے ۔

 

اعتماد نامہ کیا ہے اور یہ کس کو جاری کیا جاتا ہے؟

اعتماد نامہ ایک سرکاری خط ہے جو کسی ملک کا اول فرد (عام طور پر صدر) دوسرے ملک کے پہلے عہدیدار کو لکھتا ہے، جس کے ذریعے وہ اپنا تعارف کرواتا ہے۔ دوسرے ملک میں سفیر اور اپنے اختیارات کی حدود کا تعین کرتا ہے۔

نئے چینی سفیر نے افغان حکومت کے پہلے عہدیدار کو اعتماد کا لیٹر سونپ دیا۔افغان حکومت کے وزیر اعظم کی منظوری سے واضح ہوتا ہے کہ چینی حکومت آہستہ آہستہ امارت اسلامیہ افغانستان کو تسلیم کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات اعلیٰ سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ دو ہمسایہ ممالک کے طور پر، افغانستان اور چین کے درمیان تقریباً 92 کلومیٹر کی مشترکہ سرحد ہے۔ چین نے ہمیشہ دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے خاص طور پر اقتصادی میدان میں۔ اس بنا پر 20ویں اور 21ویں صدی میں چین کی ترقی کی تاریخ کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک کے رویے اور خارجہ تعلقات میں سرگرمی کی منطق اقتصادی ہے۔ یہ وہ پالیسی ہے جس کا انتخاب نئی افغان حکومت نے کیا ہے اور وہ بات چیت میں اپنے اقتصادی مفادات کو ترجیح دینا چاہتی ہے۔اس طرح کی پالیسی افغانستان اور چین کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں بہت کارگر ثابت ہوئی ہے۔

چین ان ممالک میں سے ایک ہے جو افغانستان سے غیر ملکی افواج کی انخلاء اور افغانستان میں ایک جامع حکومت کے قیام کی حمایت کرتے تھے۔

افغانستان میں امارت اسلامیہ کے قیام کے بعد چین افغانستان کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کے لیے اقتصادی اور انسانی امداد کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون میں دلچسپی کا اظہار کر رہا ہے۔ ان تعلقات کو دیکھ کر ہر شخص یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ چین پہلا وی ملک ہو گا جو بات چیت کی لائن سے تسلیمی کی سمت بڑھے گا۔