بارہویں قسط | اسلام میں فلسفہ جہاد

طاہر احرار

#image_title

ساتواں اعتراض:

 اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے

 كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۗ، (الآية)

 ترجمہ: تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کی ہدایت کے لیے منتخب کیا گیا ہے، تم اچھے کاموں کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔

اس آیت میں بہترین امت کی جو صفات بیان کی گئی ہیں، ان میں جہاد یا مجاہد کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

 جواب نمبر1:

خیر الامت کو مذکورہ بالا دو تین صفات تک محدود رکھنا بہت بڑی غلطی، دین اسلامی احکام سے لاعلمی اور دین اسلام کی توہین ہے۔

علامہ مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

 اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ یہ امت خیر اور ایک دوسرے کو نفع پہنچانے والی امت ہے اور اس عمل کا زیادہ تر تعلق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ساتھ ہے۔

 امر بالمعروف پچھلی امتوں پر بھی فرض تھا، لیکن انہوں نے یہ حصہ مکمل نہیں کیا، کیونکہ ان کی ذمہ داری قیامت تک دین کے پہنچانے کی نہیں تھی، اسی لئے ان پر جہاد فرض نہیں کیا گیا تھا۔ اس امت پر جہاد فرض ہے کیونکہ وہ اس دین کو قیامت تک پھیلاتے رہیں گے اور یہ طاقت اور جہاد کے بغیر ممکن نہیں۔ (معارف القرآن)

جواب نمبر 2:

 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

بہترین امت سے مراد وہ لوگ ہیں جو کفار کو زنجیروں میں جکڑ دیتے ہیں تاکہ وہ اسلام میں داخل ہو جائیں یعنی مجاہدین۔

جواب نمبر 3:

آج کل امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بزور حکومت اور جہاد ہی ممکن ہے، جو دعوت حکومت اور جہاد کے بغیر ہوتی ہے وہ گزارش اور التماس کہلائی جاتی ہے۔