ابو بکر بغدادی قریشی اور حسینی نہیں تھے

#image_title

ابو بکر بغدادی قریشی اور حسینی نہیں تھے

داعش کے مفتی ترکی البنغلی نے جوابو حمام الاثری کے نام سے مشہور ہے اپنی کتاب ” مد الآیادی ببيعة البغدادی” میں بغدادی کو اہل بیت میں سے شمار کیا ہے اور اسے قریشی اور حسینیلکھا ہے، یہ فقط مسلم نوجوانوں کو ابھارنے کیلئے ایک حربہ استعمال کیا گیا تا کہ وہ اس کے ذریعے نو جوانوں کو بے وقوف بنا سکیں کہ بغدادی اسلئے خلافت کا اہل ہے کہ وہ قریشی ہے۔ ترکی المبنغلی بغدادی کا نسب یوں بیان کرتا ہے وہ عرموش کا نواسہ ہے، عرموش بن علی بن عبید بن بدری بن بدرالدین بن خلیل بن حسین بن عبد اللہ بن ابراہیم بن الا واہ بن الشریف یحی عزالدین بن الشريف بشیر بن ماجد بن عطیه بن یعلی بن دوید بن ماجد بن عبد الرحمن بن قاسم بن الشريف بن ادریس بن الزکی بن علی الہادی بن محمد الجواد بن علی الرضا بن موسی الکاظم بن جعفر الصادق بن محمد الباقر بن علی زین العابدین بن حسین بن علی بن ابی طالب و فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (1) حقیقت یہ ہے کہ اوپر جو شجرہ نسب ذکر کیا گیا یہ بغدادی کا نہیں بلکہ یہ عراق میں اہل سنت کے مشہور عالم سید شریف صبحی بن جاسم کا نسب ہے جسے ان سے داعشیوں نے سرقہ بازی سے چوری کر کے یہاں اپنے بغدادی کیلئے لکھ دیا ہے۔ سید شریف ابو عبد الرحمن صبحی القریشی الحسینی سامراء کے رہنے والے تھے جو کہ ۱۳۵۵ھ میں پیدا ہوئے اور ۱۴۳۴ھ میں وفات پاگئے ، ان کا سلسلہ نسب کچھ یوں ہے ، المحدث المحقق السيد شريف صبحي بن السيد جاسم بن حميد بن حمد بن صالح بن مصطفى بن حسين بن عثمان بن دوله بن محمد بدری بن عرموش بن على بن عيد بن بدری بن بدر الدين بن خليل بن حسين بن عبد الله بن ابراهيم بن الاواه بن الشريف يحى عز الدين بن الشريف بشير بن ماجد بن عطيه بن یعلی بن دوید بن ماجد بن عبد الرحمن بن قاسم بن الشريف بن ادريس بن الزكي بن على الهادي بن محمد الجواد بن على الرضا بن موسى الكاظم بن جعفر الصادق بن محمد الباقر بن على زين العابدين بن حسين بن على بن ابى طالب و فاطمه بنت محمد صلى الله علیه وسلم ) تاریخ علماء بغداد ص ۲۸۵ اعلام المدرسه الحديثيه البغداديه المعاصره ص . نعمة المنان في اسانيد شيخنا ابو عبد الرحمن

کورہ نسب میں ابو بکر بغداد کی اور عرموشن کے درمیان بار ہو اسے حذف لکھا اسلئے کہ بغداد کی اپ نے انسان کا ہے اور مسیحی ۸۰ سال کی عمر میں وفات پاچکے ہیں تو یہاں صبحی بغدادی کے لیے دادا کی حیثیت رکھتے ہیں یہاں باپ اور دادا کے بعد دس اور کڑیاں غائب ہیں جن کا نہ کرو موجود نہیں اگر ہندوی حقیقت میں عرموش کی وجہ سے حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں تو پھر یہ بارہ لوگ کیوں ذکر نہیں کئے گئے ؟ اور ڈائریکٹ دینا نگری میں چھلانگ کیوں لگائی گئی اور سری بڑی غلطی ہے کہ داغ والے لوگوں کو بے وقوف بنارہے ہیں انہوں نے عرمول بن علی بن سعید کی جگہ عرموش بین علی بن عید لکھا ہے یہ چاہتے ہیں کہ نسب میں غلہ بنا کر دیں جب کہ علاء انساب اور ماہرین آسیب اس نے محقق تھا کہ پار کیا ہیں اور رابعہ میں کا

ایک بیٹا تھا سعید کے نام سے (1) چیلنج: ہم تمام داعشیوں کو چیلنج دیتے ہیں کہ اپنے موہوم خلیفہ کا نسب سند کے ساتھ عرموش تک ہی ثابت کر کے دکھا دیں

حسین رضی اللہ عنہ تک تو دور کی بات ہے۔

داعشیوں نے اپنے خلیفہ کے شجرہ نسب میں اتنا بڑا جھوٹ کیوں بولا ؟

جواب بڑا عام فہم اور سادہ سا ہے کہ جو بندہ اپنے تخت وتاج کیلئے، جاہ و جلال کیلئے، عیش و عشرت کیلئے ، لاکھوں مسلمانوں کا خون

بہا سکتا ہے تو اس کیلئے یہ جھوٹ بولنا اور شجرہ نسب بنالینا کو نسی بڑی اور غلط بات ہے جس پر وہ شر مند ہ ہو !!! یہ لوگ اسی طرح کے وہی جھوٹے دعوئوں کے ذریعے نوجوانان اسلام کو اپنے قریب لاتے ہیں اور ان کے پاکیزہ جذبات

کے ساتھ کھیلتے ہیں اور نوجوانوں کو اپنے غلط مقاصد اور ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ اب بھی داعشیوں کو کچھ شرم نہیں آئی ہوگی اتنا بڑا جھوٹ باندھنے والا خلیفہ ہو سکتا ہے کیا؟؟ نسب فليتبوأ مقعده من النار ترجمہ: ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو فرماتے ہیں: جو خود کو اپنے سگے باپ کے سواد وسرے کی طرف منسوب کرے وہ کافر ہو جاتا ہے اور جو اپنے آپ کو ایسی قوم کی جانب منسوب کرے جس سے اسکا نسبی تعلق نہ ہو تو وہ اپنے لئے جہنم میں ٹھکانہ بنالے۔ جب امت مسلمہ روس کے خلاف جہاد میں مصروف تھی تو بغدادی یہی تعلیم حاصل کر رہا تھا. آیا وہ شخص عالمی جہاد کی قیادت کے لائق ہے جو جھوٹ کی بنیاد پر اپنے آپکو قریشی اور حسینی ثابت کرے؟ جسے کفار کے خلاف لڑی جانے والی جنگوں کا غبار تک نہ لگا ہو ایسا شخص امام جہاد بن سکتا ہے؟ بلکہ ۲۰۱۰ میں اسے ڈرامائی طور پر سامنے لایا گیا اور جعلی شخصیت دی گئی ہے۔ کیا عالمی جہاد کا امام وہ شخص بن سکتا ہے جس کا کسی بھی جہاد میں ذرہ بھر کر دار نہ ہو ؟

امام بخاری رحمہ اللہ اپنی سند کے ساتھ ابو ذر رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں: عن ابی ذر انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: ليس من رجل ادعى لغير ابيه وهو يعلم الاكفر ، ومن ادعى قوماً ليس فيهم